معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی زیرصدارت احساس نشو ونما کی توسیع پر تبادلہ خیال کیلئے سٹیئرنگ کمیٹی کاپہلا  اجلاس

129

اسلام آباد،11جنوری  (اے پی پی):وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احساس نشوونما کی سٹیئرنگ کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔ دو وفاقی وزراء اور چھ صوبائی وزراء نے فارن کامن ویلتھ آفس، عالمی بینک، ورلڈ فوڈ پروگرام، عالمی ادارہ صحت، ایشیائی ترقیاتی بینک، یونیسیف، فیڈرل ایکسپنڈڈ پروگرام فارامیونائزیشن، پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ اوربی آئی ایس پی کی نشوونما آپریشن ٹیم کے ہمراہ اجلاس میں شرکت کی ۔

سٹیئرنگ کمیٹی کے ممبران کو احساس نشوونما پروگرام کی پیشرفت کے بارے میں آگاہ کیا گیا جس پر صوبوں اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے اشتراک سے عملدرآمد کیا جارہا ہے ۔ علاوہ ازیں  سٹیئرنگ کمیٹی کے ٹی اوآرز، پروگرام کو وسعت دینے کی حکمت عملی، پہلے مرحلے کے اسباق، معیار میں اضافہ کی ترجیحات، پروگرام میں ڈیزائن اور رول آئوٹ میں پیش کردہ موافقت اور انضمام پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

 کمیٹی نے بچوں میں سٹنٹنگ اور غذائی قلت کی روک تھام کیلئے مختلف ممالک، وزراتوں ، بین الشعبہ جات اور بین الصوبائی تعاون کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی سطح پر غذائیت سے متعلق پروگراموں کو مربوط کرنے پر تبادلہ خیال کیا ۔نشوونما ایک 3سالہ پروگرام ہے جو غریب حاملہ خواتین اور دو سال سے کم عمر بچوں کی مائوں کو مشروط مالی معاونت فراہم کرتا ہے ، یہ پروگرام غذائیت سے بھرپور خوراک، حفاظتی ٹیکوں اور صحت سے متعلق آگاہی اجلاسوں میں شرکت سے منسلک ہے ۔پالیسی کو عملی شکل دینے کیلئے، پروگرام کے ذریعے ایک ہی چھت کے نیچے تمام خدمات مہیا کرنے کیلئے ضلعی اور تحصیل سطح پر صحت کی سہولیات سے متعلق 13اضلاع میں 48احساس نشوونما مراکز قائم کئے جارہے ہیں ۔ بلوچستان کے جغرافیائی پھیلائو کو مدنظر رکھتے ہوئے، بنیادی ہیلتھ یونٹ کے نشوونما مراکز کھولے جارہے ہیں تاکہ اس سہولت تک آسان رسائی کو یقینی بنایا جاسکے ۔

ملک میں 7سے 13غذائیت سے غیر محفوظ اضلاع پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ احساس نشوونما کا پہلا مرحلہ سماجی تحفظ کے پلیٹ فارمز میں غذائیت سے متعلق نقطہ نظر کو ضم کرنے کیلئے ایک ٹھوس، سیاق وسباق پر مبنی اور توسیع پذیر نمونہ فراہم کرتا ہے ۔ پروگرام کی توسیع کا اطلاق فیلڈ سے حاصل ہونے والے اسباق اور آپریشنل جائزوں پر ہوگا جو احساس نشوونما کے تصور اور ڈیزائن میں سرایت کر چکے ہیں ۔ پاکستان میں غذائی قلت کی اعلی شرح سے نمٹنے کیلئے پالیسی عمل کا تصور کیا گیا ہے جہاں سب سے زیادہ بوجھ آبادی کے غریب طبقات پر ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ احساس نشوونما کے پروگرام کے بارے میں آگاہی کو موثر انداز میں بڑھانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ انسٹرکشنل بینیفشری سینٹرڈ کمیونی کیشن پر توجہ مرکوز کی جائے۔