اسلام آباد،12جنوری (اے پی پی):نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر سے ہر صورت بچنے کی کوشش کرنی ہوگی، ویکسین آنے میں وقت لگے گا اور اس وقت تک ہرشخص کی ذمہ داری ہے وہ احتیاط کرے۔
منگل میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران صنعت و تعمیرات کے شعبے کو کھولا گیا، مکمل لاک ڈاؤن کے بجائے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کو اپنایا گیا۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے کورونا وائرس کی وبا کے باعث لاک ڈائون سے متاثر بےروزگار افراد پر بھی توجہ دی، کورونا وائرس کی وبا نے ترقی یافتہ ممالک کو بھی متاثر کیا، وبا کے دوران پاکستان کی پالیسیوں کی عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی، بعض ممالک میں سخت لاک ڈاؤن سے معاشی مشکلات بڑھیں۔
اسد عمر نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران پاکستانی پالیسیوں کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی، اقوام متحدہ، بل گیٹس اور دیگر عالمی اداروں نے پاکستان کی تعریف کی، بروقت فیصلے نہ کیے جاتے تو نقصان کا اندیشہ تھا، وبا کے ساتھ زندگی گزارنے کی عادت ہوگئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران ہرشخص نے مشکل سے گزارا کیا، پاکستان میں ساڑھے پانچ کروڑ لوگ معاوضے کے عوض کام کرتے ہیں، وبا سے 2 کروڑ افراد کا روزگار متاثر ہوا، 10 فیصد گھرانے بعض اوقات ایک سے زائد دن بھوکے رہے، 30 فیصد گھرانے خوراک کی عدم فراہمی پر عدم تحفظ کا شکار ہوئے، معاشی بدحالی کے باعث 54 فیصد افراد نے کھانے پینے کی اشیا کی خریداری کم کر دی، 50 فیصد نے سستی اشیا خریدیں یا کھانے پینے میں کمی لائے، 47فیصد افراد نے بتایا انہیں اپنی جمع پونجی استعمال کرنا پڑی، 30 فیصد افراد نے دوستوں وغیرہ سے قرضہ لے کر گزارا کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وبا کی دوسری لہر میں کچھ ممالک میں بہت زیادہ اموات ہو رہی ہیں، برطانیہ،امریکا میں کورونا سے جتنی اموات 2021 میں ہورہی ہیں اتنی 2020 میں نہ ہوئیں، پاکستان نے مکمل کے بجائے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کو اپنایا ہے، دسمبرکے پہلے ہفتے کے بعد وبا کا پھیلاؤ کم ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کورونا ویکسین حاصل کرنے کیلئے تیزی سے فیصلے کر رہی ہے، چینی کمپنی سے بات چیت جاری ہے،جلد اچھی خبر دیں گے، کچھ ممالک میں کورونا کی تیسری لہر بھی دیکھی ہے، شہریوں سے اپیل ہے کہ وبا کے دوران احتیاط کریں۔











