کاٹن کی بحالی کےلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا پڑے گا: وفاقی وزیر سید فخر امام

55

لاہور،17مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سپیشل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام نے کہا ہے کہ کاٹن کی بحالی ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس کےلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کپاس کے بیج پر سبسڈی دینے کا پروگرام بنایا ہے اور اس ضمن میں صوبائی حکومتوں کو براہ راست رقوم منتقل کی جائیں گی۔

بدھ کو یہاں کپاس کی بحالی کے حوالے سے ورچوئل کانفرنس سے خطاب میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کلین کاٹن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، کپاس کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔کاٹن کنٹرول ایکٹ پر مکمل طور پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا اور کپاس پر حملہ آور ہونے والی سفید مکھی اور پی پی روپس جیسے کیٹروں کو موثر طریقے سے کنٹرول کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس موقع پر وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کپاس پر ایک جامع سبسڈی پروگرام بنایا ہے، ہماری خصوصی توجہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور طویل مدت منصوبہ بندی پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپاس ہماری معیشت میں کلیدی حیثیت کی حامل ہے جس کی پیداوار بڑھانے کے لیے ایک جامع پروگرام شروع کیا گیا ہے،کپاس کےلئے زوننگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے لحاظ سے موزوں علاقوں کے انتخاب کی نشاندہی کی جارہی ہے،مزید برآں موزوں علاقوں کے لحاظ سے ورائٹیوں کو بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔

سید حسین جہانیاں گردیزی نے مزید کہا کہ پنجاب میں کھاد، منظور شدہ بیج اور زرعی ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے،ہم نے ایڈوائزری سروس کا پروگرام بھی ترتیب دیا ہے جس کے تحت کاٹن سے متعلقہ تمام مہم کو مانیٹر کیا جائے گا۔

اجلاس میں صوبائی وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی،وفاقی سیکرٹری فوڈ سکیورٹی کے علاوہ سندھ اور خیبر پختونخواہ کے محکمہ زراعت کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔