اسلام آباد۔ 17 مارچ ، 2021: اسپارک نے بدھ کے روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں کرونا وائرس کی وبائی ایمرجنسی میں حکومت کو صحت ٹیکس اہمیت اجاگر کرنے کے لئے پریس کانفرنس منعقد کی۔
صحت کارکنوں نے ہیلتھ لیوی بل کے نفاذ پر حکومت سے التجا کی ہے جو گذشتہ سال منظور ہوا تھا لیکن اب تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ ہیلتھ لیوی کے نفاذ سے اضافی 40 بلین روپے اکھٹے ہونگے جو اس وبائی صورتحال میں استعمال ہوسکتے ہیں۔
خلیل احمد ، پروگرام منیجر ، اسپارک نے کہا کہ پاکستان کے بجٹ میں صحت کے شعبے کے لئے محدود مقدار مختص ہے۔ ہیلتھ لیوی کی تجویز اس لیے بھی پیش کی گئی تھی کہ تمباکو کی قیمتوں میں اضافہ اس کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھ سکتا ہے ۔ سگریٹ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرکے 40 بلین اضافی رقم پیدا کی جاسکتی ہے جوکہ صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے لئے استعمال کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صحت سے متعلق محصول سے حاصل ہونے والی آمدنی کویوڈ 19 سے بچاؤ کی ویکسین کی خریداری اور تقسیم میں استعمال کی جاسکتی تھی تاکہ عوامی زندگی کو معمول پر لانے میں تیزی آسکے۔
اسپارک کے پروگرام منیجر نے کہا ، کہ کویوڈ 19 کے دوران ، صحتٹیکس کا نفاذ ضروری ہوگیا ہے کیونکہ وبائی بیماری کے اضافی اخراجات ے صحت کے سالانہ بجٹ سے کہیں زیادہ ہیں ۔ حکومت نے بزرگ شہریوں کو قطرے پلانے کا اعلان کیا جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو قطرے پلائے جائیں لیکن ناکافی مالی وسائل ایک بڑی رکاوٹ ہیں ۔
پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے سکریٹری جنرل چودھری ثناء اللہ گھمن نے کہا کہ ذمہ دار ممالک پہلے ہی کوویڈ 19 کے خلاف ویکسین فراہم کرنے پر کام کر رہے ہیں. ہماری حکومت صحت ٹیکس کے نفاذ سے اس ذمہ داری کو پورا کیوں نہیں کررہی ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوویڈ 19 کے وسیع پیمانے پر پھیلنے سے سب کو ایک بار پھر احساس ہوا ہے کہ ہمارے موجودہ وسائل میں کسی بھی قسم کے ہنگامی بحران کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ صحت ٹیکس عائد کرنے پر عمل درآمد ملتوی ہونے کی وجہ سے قومی خزانے کو 40 بلین روپے کا خسارہ اٹھانا پڑا. لیکن اب بھی یہ ٹیکس نافذ کر کے اس رقم کو وسیع پیمانے پر وبا کے کنٹرول کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور ہمارے شہریوں کے لئے بہتر بہبود اور معیار زندگی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔











