اسلام آباد ، 22 مارچ (اے پی پی ): پاکستان سمیت دنیا بھر میں پانی کا عالمی دن ہر سال 22 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو ہم
مستقبل میں پانی کا انتظام کرنے کی تیاری کے حوالے سے مناتے ہیں۔ 1993 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 22 مارچ کو پہلا پانی کا عالمی دن منایا، 22 سال سے پانی کا عالمی دن ہر سال ایک مختلف مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے منایا جاتا ہے۔ یہ دن اقوام متحدہ کے عالمی پانی کی ترقی کی سالانہ رپورٹ کا حصہ بھی ہے جو عالمی یوم آبی دن پر لانچ کیا جاتا ہے۔
حکومت پاکستان کے ساتھ پانی کے شعبے میں یو ایس ایڈ کی معاونت 1960ء کے عشرے سے چلی آ رہی ہے جب امریکی حکومت نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیموں کی تعمیر میں مدد فراہم کی۔ پاکستان میں آبی وسائل کے انتظام اور گورننس میں بہتری لانے کے لیے حکومت کو متعدد منصوبوں میں امریکا کی تکنیکی معاونت بھی حاصل ہے۔ ان منصوبوں میں پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد میں اضافہ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، زرعی پیداوار کے لیے پانی کی فراہمی، پانی کے نظام کو بہتر بنانا اور اس کے علاوہ سرحد پار پانی کے تصفیے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
امریکا نے حکومت پاکستان کے ساتھ اشتراک کر کے یو ایس ایڈ کے ذریعے 2010 سے 2015 کے دوران خیبر پختونخوا میں گومل زم اور گلگت بلتستان میں صدپارہ ڈیم کی تعمیر کے لیے معاونت فراہم کی۔ اِن دونوں ڈیموں میں 1.2 ملین فُٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے،جس سے پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی موجودہ گنجائش میں قومی سطح پر اضافہ ہوا۔ ان ڈیموں کی تعمیر سے پاکستان میں سیلاب کنٹرول کرنے میں مدد حاصل ہوئی، پن بجلی کی (35 میگا واٹ) پیداوار میں اضافہ ہوا اور کے پی، گلگت بلتستان کے علاقوں میں 2 لاکھ ایکڑ سے زائد نئی اراضی کو مستقل آب پاشی کے ذریعے قابلِ کاشت بنانے میں مدد حاصل ہوئی۔ ان دو ڈیموں کی تعمیر سے قومی سطح پر پانی ذخیرہ کی کرنے کی صلاحیت میں 8 فیصد اضافہ ہوا۔ پاکستان کے 10 لاکھ سے زائد کسانوں کو مدد بھی فراہم کی گئی، 2 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے کو سیراب کیا، آب پاشی کے لیے 400 کلومیٹر کی نہریں تعمیر کی گئیں، گیارہ سو پانی کے چھوٹے منصوبے اور 4 لاکھ 50 ہزار ایکڑ پر آب پاشی کے منصوبے کی بحالی پر کام مکمل کیا گیا۔
امریکی ادارے یو ایس ایڈ نے خیبر پختونخوا اور سندھ حکومت کے ساتھ اشتراک کے ذریعے 10 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو صاف پانی کی فراہمی اور 20 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو صفائی کی بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مدد کی۔ اس منصوے کے تحت میونسپل اداروں کی کارکردگی اور انفراسٹرکچر میں بہتری لائی جا رہی ہے۔ پشاور اور حیدر آباد جیسے شہروں میں پانی اور صفائی کے نظام میں آپریشنل اصلاحات لانے کا کام ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے۔ جیکب آباد شہر کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام میں بہتری کے لیے مقامی حکومت کے ساتھ مل کر کام تیزی سے جا ری ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے، 3 لاکھ سے زائد شہری مستفید ہونگے۔











