اکتوبر2020 کے بعد سے لیکراب تک ماہانہ دوارب ڈالرمالیت کی برآمدات اور ترسیلات زر میں مسلس اضافہ سے اقتصادی بحالی میں مددملے گی:وزارت خزانہ

44

اسلام آباد۔28اپریل  (اے پی پی):وزارت خزانہ نے کہاہے کہ سمارٹ لاک ڈاون کی پالیسی، 1240 ارب روپے کے میگاامدادی پیکج اورچھوٹے ودرمیانہ درجہ کے کاروبارکیلئے بے مثال رعایتوں اوربروقت اقدامات کے نتیجہ میں حکومت کوویڈ19 کی وبا کے سماجی اوراقتصادی اثرات کوکم کرنے میں کامیاب ہوئی ، اگرچہ کوروناوائرس کی تیسری لہر نے معاشی امکانات کیلئے خدشات پیداکئے ہیں تاہم بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں نمایاں تیزی، اکتوبر2020 کے بعد سے لیکراب تک ماہانہ دوارب ڈالرمالیت کی برآمدات اورسمندرپارپاکستانیوں کی ترسیلات زر میں مسلس اضافہ سے اقتصادی بحالی میں مددملیگی۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ میں کہاگیاہے کہ پاکستان تین سال کے بعد بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ ،میں داخل ہوا اور2.5 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس سے قومی معیشت پربین الاقوامی خریداروں کے اعتماد کی عکاسی ہورہی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق حکومت کی اقتصادی پالیسی سے پائیدار ، جامع اورمساوی بڑھوتری میں مددملیگی اورملازمتوں کے نئے مواقع بھی پیداہوں گے۔وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال کی تین سہ ماہیوں میں سمندرپارپاکستانیوں نے 21.5 ارب ڈالرکازرمبادلہ ملک ارسال کیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 17 ارب ڈالرکے مقابلہ میں 26.2 فیصدزیادہ ہے۔ برآمدات میں اضافہ کی شرح 2.3 اوردرآمدات میں 9.4فیصدرہی ، مالی سال کی تین سہ ماہیوں میں 18.7 ارب ڈالرمالیت کی برآمدات ریکارڈکی گئیں۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 18.3 ارب ڈالرکی برآمدات ہوئی تھیں،تین سہ ماہیوں میں 37.4 ارب ڈالرکی درآمدات ہوئی۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں درآمدات کاحجم 34.1 ارب ڈالرریکارڈکیاگیاتھا۔حسابات جاریہ کے کھاتوں کاتوازن ایک ارب ڈالرریکارڈکیاگیا۔جی ڈی پی کی مناسبت سے حسابات جاریہ کے کھاتوں میں 0.5 ارب ڈالرکااضافہ ہوا،مجموعی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں تین سہ ماہیوں کے دوران 35.1 فیصدکی کمی ہوئی، گزشتہ مالی سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں2.150 ارب ڈالرکی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ریکارڈکی گئی تھی جاری مالی سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کاحجم 1.395 ارب ڈالرریکارڈکیاگیا۔مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری میں جاری مالی سال کے دوران 52.6 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق جاری مالی سال میں زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ کا رحجان دیکھنے میں آرہاہے، جاری مالی سال میں 22اپریل تک زرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 23.44 ارب ڈالرریکارڈکیاگیا، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ حجم 18.67 ارب ڈالررہاتھا۔اسی طرح پاکستان کی کرنسی کی قدرمیں گزشتہ سال کی نسبت اضافہ ہواہے۔گزشتہ سال 22 اپریل کو ڈالرکے مقابلہ میں پاکستانی کرنسی کی قدر160.36 روپے تھی جو رواں سال 22 اپریل کو153.46 روپے ہوگئی۔اس عرصہ میں ایف بی آر کے ریونیومیں 10.9 فیصداضافہ ہوا تاہم نان ٹیکس ریونیومیں 1.5 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔وفاق کے زیراہتمام سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت فنڈز کے اجرا میں 2.3 فیصدکااضافہ ہواہے۔وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال کی تین سہ ماہیوں میں مالیاتی خسارہ میں کمی ہوئی ہے،تین سہ ماہیوں میں مالیاتی خسارہ کاحجم 1603 ارب روپے تھا گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں مالیاتی خسارہ کاحجم 1613 ارب روپے ریکارڈکیاگیاتھا۔پرایمری بیلنس میں اضافہ ہواہے۔گزشتہ مالی سال کی تین سہ ماہیوں میں پرایمری بیلنس 104 ارب روپے تھا جو جاری مالی سال میں بڑھ کر286 ارب روپے ہوگیا۔زرعی قرضوں کے اجرا میں جاری مالی سال کے دوران 4.6 فیصد اورنجی شعبہ کوقرضوں کے اجرامیں 16.9 فیصد کااضافہ ہواہے۔وزارت خزانہ کے مطابق بڑی صنعتوں کی پیداواربڑھ رہی ہے۔ مارچ کے مہینہ میں صارفین کیلئے قیمتوں کے حساس اشاریہ میں کمی ہوئی ہے۔ مالی سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں پاکستان سٹاک ایکسچینج کے انڈکس میں 28.78 فیصد اورمارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 18.46 فیصدکااضافہ ہواہے۔نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی شرح میں اضافہ کاتناسب 38.52 فیصدریکارڈکیاگیاہے۔