اسلام آباد۔28اپریل (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے آئی پی پیز کوادائیگیوں کی پہلی قسط کے اجرا کے ضمن میں وزیرخزانہ کی قیادت میں ذیلی کمیٹی قائم کردی ہے جس کے دیگرارکان میں پیٹرولیم اورتوانائی کے وزیراورسیکرٹریز شامل ہیں،کمیٹی ای سی سی کے آئندہ اجلاس میں ٹھوس تجاویز اورسفارشات پیش کرے گی۔اجلاس میں کئی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی گئی۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کااجلاس بدھ کووزیرخزانہ ومحصولات شوکت ترین کی زیرصدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں پاورڈویژن کی جانب سے مارچ 2020 میں برآمدی صنعتوں کو100 فیصد آرایل این جی کی فراہمی پرسبسٖڈی جاری کرنے سے متعلق سمری پیش کی گئی،ای سی سی نے سمری کی منظوری دی اوروزیراعظم کے مشیربرائے تجارت عبدالرزاق داؤد کی صدارت میں ایک ذیلی کمیٹی قائم کی جو برآمدی صنعتوں کیلئے بجلی کی مد میں سبسڈیز کاجائزہ لے گی، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پاوراوردیگرمتعلقہ سٹیک ہولڈرز کمیٹی میں شامل ہوں گے۔کمیٹی پاورسے متعلق سبسڈیز کے بارے میں جامع رپورٹ ای سی سی میں پیش کرے گی۔اجلاس میں آئی پی پیز کوادائیگیوں کی پہلی قسط کے اجرا کے ضمن میں پاورڈویژن کی ایک اورسمری پیش کی گئی،ای سی سی نے اس سمری کاجائزہ لینے کیلئے وزیرخزانہ کی قیادت میں ذیلی کمیٹی قائم کی جس کے دیگرارکان میں پیٹرولئیم اورتوانائی کے وزیراورسیکرٹریز شامل ہیں۔کمیٹی ای سی سی کے آئندہ اجلاس میں ٹھوس تجاویز اورسفارشات پیش کرے گی۔ جس کے بعد اس کی منظوری دی جائیگی۔اجلاس میں وزارت قانون وانصاف کیلئے 22.7 ملین روپے، وزارت انسانی حقوق کیلئے 10.025 ملین روپے، وزارت ہاوسنگ وتعمیرات کیلئے 7.2 ملین روپے اوروزارت ہاوسنگ کے ضروری اخراجات کیلئے 262 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں وزیرداخلہ شیخ رشیداحمد،وفاقی وزیراقتصادی امورعمرایوب خان،وزیرتوانائی محمدحماداظہر، وزیرنجکاری محمدمیاں سومرو،وزیرریلویز اعظم خان سواتی،وزیراعظم کے مشیربرائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹرعشرت حسین، معاون خصوصی پاورتابش گوہر،معاون خصوصی محصولات وقار مسعود خان، وفاقی سیکرٹریز، چئیرمین سرمایہ کاری بورڈ، چئیرمین سیکورٹیز اینڈایکسچینج کمیشن آف پاکستان اورسینئیرافسران نے شرکت کی۔ گورنرسٹیٹ بینک رضاباقر ویڈیولنک کے زریعہ اجلاس میں شریک ہوئے۔











