کوئٹہ۔28پریل (اے پی پی): وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی میں بلوچستان کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ وفاق میں حکومت بنانے کے لیے بلوچستان کے ووٹوں کا تناسب کم تھا اسلام آباد میں بننے والے وزیر اعظم کو بلوچستان کے ووٹوں سے سروکار نہیں تھا اور پاور سنٹر کو بلوچستان کی ضرورت نہیں تھی ہماری حکومت نے اس سوچ کو تبدیل کرکے بلوچستان سمیت پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی اور مشکل معاشی و مالی حالات کے باوجود ترقیاتی عمل پر عمل درآمد کو یقینی بنایا انہوں نے یہ بات کوئٹہ ویسٹرن بائی پاس، ڈیرہ مراد جمالی بائی پاس، زیارت موڑ، کچ، ہرنائی، سنجاوی روڑ کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے کی افتتاحی تقریب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر چیئرمین نیشنل ہائی وئے اتھارٹی کیپٹن(ر) محمد خرم آغا نے وزیر اعظم کو بلوچستان میں این ایچ اے کے جاری منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ تقریب میں وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید، وفاقی وزیر پلاننگ اسد عمر خان، وفاقی وزیر دفاعی پیدوار زبیدہ جلال، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی، وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹنٹ جنرل سرفراز علی، صوبائی وزرائسینیٹرز اور اراکین صوبائی و قومی اسمبلی بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ یہ بات قابل تحسین ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران 3300 کلو میٹر شاہرواں کی تعمیر کے منصوبے تشکیل دئیے گئے اور ان پر بلا تاخیر عمل درآمد شروع کردیا گیا ماضی کے پندرہ سالوں میں بلوچستان میں محض گیارہ سو کلو میٹر شاہراہوں کی تعمیر کی منصوبہ بندی کی گئی، انہوں نے کہا کہ آج شروع کئے گئے تین اہم منصوبوں کے علاوہ چمن کوئٹہ کراچی دو رویہ شاہراہ کا آغاز بھی جلد کردیا جائے گا،وزیر اعظم نے وفاقی وزیر مراد سعید اور محکمہ مواصلات کو ہدایت کی بلوچستان میں جاری منصوبوں کو اعلی معیار کے مطابق پایا تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ لوگ دیرپا طور پر اس سے مستفید ہوتے ہوئے ہماری حکومت کی کارکردگی کو یاد رکھیں انہوں نے کہا کہ 2013 میں ہمیں خیبر پختون خواہ میں مشکل حالات میں حکومت ملی 500 پولیس اہلکار شہید تھے پولیس کا مورال نہایت کمزور تھا اغوائبرائے تاوان، دہشت گردی لوٹ مار عروج پر بھی تھی اپوزیشن تنقید کرتی تھی کہ خیبر پختون خواہ میں نیا پاکستان کہیں نظر نہیں آرہا ہم نے صبر و تحمل اور برداشت سے اپنے نظریے کے مطابق کام جاری رکھا اور کارکردگی کی بنیاد پر عوام نے 2018 کے الیکشن میں ہمیں دو تہائی اکثریت دی، انہوں نے کہا کہ ہمارا نظریہ خدمت خلق ہے دنیا میں پیسے والے یا اثر و رسوخ کے حامی شخصیات بادشاہوں کو یاد نہیں رکھا جاتا بلکہ عوام کی خدمت کرنے والوں کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے آج گنگا رام نہیں تاہم اس کا طبی ادارہ اسے زندہ کئے ہوئے ہے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں ایک چھوٹا سا طبقہ وسائل پر قابض ہے جو غریبوں سے وسائل اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اس چھوٹے سے طبقے کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ کئی ملک اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے لندن میں پاکستانی سیاستدانوں کی ان مہنگے علاقوں میں جائیدادیں ہیں جہاں برطاینہ کا وزیر اعظم بھی پراپرٹی نہیں لے سکتا، انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے خیبر پختون خواہ اور پھر پنجاب میں ہیلتھ انشورنس کارڈ کے تحت غریبوں کو صحت کی معیا ری سہولیات فراہم کیں اور اب ہم تمام صوبوں کے ہر فرد کو ہیلتھ انشورنس کارڈ دے رہے ہیں اس سلسلے میں ہر خاندان کو دس لاکھ روپے تک کے علاج کی سہولیات دیں گے اور مستفید خاندان اس اسکیم کے تحت اپنا علاج کسی بھی نجی یا سرکاری اسپتال سے کراسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے بعد اب پنجاب میں کسان کارڈ بھی متعارف کرایا گیا ہے چھوٹے کسانوں کا تناسب 97 فیصد ہے کسان کارڈ کی رجسٹریشن شروع کردی گئی ہے ملک میں سرکار کی طرف سے دی گئی سبسٹڈی سے قبل ازیں طاقتور اور مراعات یافتہ طبقہ مستفید ہوتا تھا تاہم اب ہم کسان کارڈ کے زریعے براہ راست غریب اور چھوٹے کسانوں کو کھاد، زرعی ادویات، بیج میں سبسٹڈی دیں گے انہوں نے کہا کہ ہم نے پسماندہ اور نچلے طبقے کو اوپر اٹھانا ہے احساس پروگرام کے تحت 88 فیصد سروئے ہوچکا ہے اس سروئے کے تحت غربت کا جائزہ لے رہے ہیں جب پورا ڈیٹا آجائے گا تو براہ راست غریب افراد کو سبسٹڈی دیں گے انہوں نے کہا کہ فلاحی ریاست مدینہ کا تصور اس لئے دیا کہ وہ ایک یونیک ڈویلپمنٹ تھی وہاں بادشاہوں کے بجائے غریبوں کی بہبود کے لئے اقدامات اٹھائے گئے چین نے سوا ارب کی آبادی میں ستر کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا، چین نے ویسٹرن چائنہ کے پیچھے رہ جانے والے علاقوں کو ویسٹرن روٹ سے منسلک کیا ہم بھی ویسٹرن روٹ کے ذریعے پسماندگی کا خاتمہ کریں گے ڈی آر آئی اور سی پیک ایسٹرن کے ذریعے دنیا کے ترقیافتہ ممالک سے منسلک کریں گے انہوں نے کہا کہ بلوچستان صحت کارڈ کے ضمن میں اٹھائے گئے اقدامات قابل ستائش ہیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا کہ ماضی کی پندرہ سالوں کی کارکردگی سے ہماری ڈھائی سالہ کارکردگی نمایاں ہے جس میں پندرہ سالوں میں گیارہ سو کلو میٹر کی محض منصوبہ بندی کی گئی جبکہ ہم نے ڈھائی سالوں میں 3300 کلو میٹر شاہرواں کی نہ صرف منصوبہ بندی کی بلکہ عمل درآمد بھی شروع کردیا وزیر اعظم عمران خان کے ویڑن کے مطابق بلوچستان سمیت پسماندہ علاقوں کی ترقی ہمارے مشن کا حصہ ہے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ اسوقت وفاقی حکومت کے تعاون سے بلوچستان میں شاہراہوں کی تعمیر سمیت ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے چمن کوئٹہ کراچی 790 کلو میٹر روڑ پر پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت جلد کام شروع کردیا جائے گا جو موجودہ حکومت کا بلوچستان کی عوام کے لئے ایک تحفہ ہوگا۔











