اسلام آباد۔7جون (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں نے ریلوے کو جس انداز میں چلایا ہے اس کے نتیجے میں آئے روز حادثات ہو رہے ہیں، دونوں جماعتوں نے کرپشن، چوری اور سینہ زوری کی بنیاد پر حکمرانی کی، گزشتہ دہائی میں پاکستان پر بدترین حکمرانی کا دور نافذ رہا ہے، اورنج ٹرین پر اربوں ڈالر ضائع کرنے کے بجائے ریلوے پر سرمایہ کاری ہوتی اور اداروں کو اپنی ذات کے گرد نہ گھمایا جاتا تو آج اس طرح کے حادثات رونما نہ ہوتے، عدالتی، انتخابی اور دیگر اصلاحات پر جب بھی اپوزیشن کو بلاتے ہیں یہ نیب آرڈیننس اور اپنے مقدمات سامنے لے آتے ہیں، وفاقی حکومت کے انسپکٹر آف ریلویز کی قیادت میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے، مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا، متاثرہ ٹریک کی بحالی کا کام جاری ہے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں گھوٹکی ریلوے حادثہ پر اپوزیشن ارکان کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریاتچوہدری فواد حسین نے کہا کہ جو بدقسمت حادثہ ہوا ہے اور اپوزیشن نے جس طرح اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے وہ فطری ہے کیونکہ واقعہ سے پورا پاکستان دکھی ہوا ہے۔ ہماری درخواست ہے کہ چونکہ وزیر ریلویز اعظم سواتی جائے وقوعہ پر ہیں اس لئے واقعہ پر بحث کل یا پرسوں کے لئے رکھ لی جائے تاکہ وفاقی وزیر ریلوے خود آکر ایوان کو تمام تفصیلات سے آگاہ کریں۔ وفاقی وزیر نے ایوان کو ریلوے حادثے کے بارے میں ابتدائی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح کراچی سے سرگودھا جانے والی ملت ایکسپریس ڈھرکی ریتی سٹیشن کے درمیان ڈی ریل ہوئی۔ ملت ایکسپریس کی 18 کوچز میں سے 12 کوچز پٹڑی سے اتر گئیں۔ جس وقت حادثہ ہوا اسی وقت راولپنڈی سے کراچی جانے والی سرسید ایکسپریس گزر رہی تھی جو ڈی ریل ہونے والی بوگیوں سے ٹکرا گئی۔ ملت ایکسپریس میں 804 اور سرسید ایکسپریس میں 584 افراد سفر کر رہے تھے۔ دونوں ٹرینوں کے مسافروں کی مجموعی تعداد 1388 تھی۔ وفاقی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ حادثے کے بعد ریلیف ٹرین روانہ کردی گئی جو موقع پر پہنچی۔ وفاقی حکومت کے انسپکٹر آف ریلویز کی قیادت میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ وہ جائے حادثہ پر پہنچے ہیں۔ مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔ متاثرہ ٹریک کی بحالی کا کام جاری ہے۔ ایم ایل ون منصوبے کے بارے میں اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھ اگست 2020ءکو اس کی منظوری دی گئی ہے اور اس کے لئے وفاق کے زیر انتظام سالانہ ترقیاتی پروگرام میں بجٹ بھی مختص کیا گیاہے۔ ریلوے حادثات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ حادثات سالوں کی غفلت کا نتیجہ ہے، جس وقت پاکستان بنا تو ہمیں ریلویز ورثے میں ملی۔ اس وقت پاکستان ریلوے کا شمار دنیا کی بہترین ریلوے سروس میں ہوتا تھا، پھر نواز شریف آگئے۔ ہمارے سامنے منگلا تک جانے والے پورے ٹریک کو غائب کردیا گیا۔ جب پتہ چلا تو معلوم ہوا کہ اتفاق گروپ نے ٹریک خرید لئے ہیں۔ اس وقت پیپلز پارٹی نے اس کے خلاف ریفرنس بھی تیار کئے۔ انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں نے ریلوے کو چلایا اس کے نتیجے میں آئے روز حادثات ہو رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں نے کرپشن، چوری اور سینہ زوری کی بنیاد پر حکمرانی کی۔ فواد چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن ارکان نے ریلوے کے بجٹ کو کم کرنے کا نکتہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کے بجٹ میں کمی نہیں کی گئی ہے بلکہ اس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ سعد رفیق اس وقت لوکوموٹو پر ریفرنس کا سامنا کر رہے ہیں۔ ریلویز بجٹ میں اضافہ ان کرپشن کیسز کا حصہ ہے جو اس وقت چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائی پاکستان پر بدترین حکمرانی کا دور نافذ رہا ہے۔ ہم پر ایسے حکمران مسلط تھے جنہیں نہ اپنی اور نہ ہی قوم کی پرواہ تھی۔ اگر اورنج ٹرین پر اربوں ڈالر ضائع کرنے کے بجائے ریلوے پر سرمایہ کاری ہوتی اور اداروں کو اپنی ذات کے گرد نہ گھمایا جاتا تو آج اس طرح کے حادثات رونما نہ ہوتے۔ ماضی کے حکمرانوں نے پی ٹی وی، پاکستان سٹیل ملز، پی آئی اے سمیت کسی ادارے کو نہیں چھوڑا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس تاریک دور کی وجہ سے آج ہمیں حادثات کا سامنا ہے لیکن انہیں اپنے کسی بھی فعل پر کوئی افسوس نہیں ہے اور معصوم شکلیں بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اگر ان واقعات میں جانیں دینے والے افراد کا خون کسی کے ہاتھوں پر ہے تو یہی وہ لوگ ہیں، افسوس اور بدقسمتی کی بات ہے کہ جن لوگوں نے اداروں کو تباہ کیا وہ ہمیں ادارے درست کرنے کے طریقے بتا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2008ءسے لے کر 2018ءکے عرصے میں بھرتیوں کے ذریعے اداروں کو نچوڑا گیا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے 60 اداروں میں سربراہان مقرر کئے ہیں، کسی ایک کے بارے میں بھی کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ دوسری طرف اسحاق ڈار کے چاچے، مامے بھرتی کئے گئے اور جہاں رشتہ دار نہ ملا تو فرنٹ مین لگا دیئے گئے۔ جس طریقے سے یہ بھرتیاں ہوئیں اس وجہ سے آج ہم بحران کا شکار ہیں۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان نے اداروں کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کا وژن دیا۔ موجودہ حکومت اینٹ پر اینٹ رکھ کر ادارے تعمیر کر رہی ہے۔ ہم میرٹ پر لوگ لا رہے ہیں لیکن اپوزیشن پاکستان کو آگے بڑھنے نہیں دے رہی۔ ہم عدالتی، انتخابی اور دیگر اصلاحات پر جب بھی انہیں بلاتے ہیں یہ نیب آرڈیننس اور اپنے مقدمات سامنے لے آتے ہیں۔ صرف دس کیس ایسے ہیں جن میں اپوزیشن کی دلچسپی ہے، اس کے علاوہ نہ انہیں اداروں اور نہ ہی ملکی ترقی سے کوئی غرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بات چیت پر یقین رکھتی ہے اور مذاکرات کے ذریعے آگے جانا بڑھنا چاہتے ہیں تاہم اپوزیشن کی جانب سے مسلسل نیب آرڈیننس اور نیب کے کیسز پر اصرار ہوتا ہے۔ اپوزیشن ایوان کو مقدمات کے حوالے سے دبائو ڈالنے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اپوزیشن کا کوئی کردار باقی نہیں رہا ہے۔ انہوں نے ایوان سے باہر بیٹھی لیڈر شپ کا کندھا استعمال کرنے کی کوشش کی۔ پی ڈی ایم میں یہ سب اکٹھے ہوگئے لیکن انہیں کامیابی نہ ملی۔ فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان وفاق کی علامت اور پاکستان تحریک انصاف وفاق کی جماعت ہے۔ پیپلز پارٹی سندھی قوم پرستی کی جماعت بن گئی ہے حالانکہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے سندھی قوم پرستی کے خلاف جدوجہد کی۔ پیپلز پارٹی آج اپنے بانیوں کے وژن کے برعکس ایک قوم پرست جماعت بن چکی ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) وسطی پنجاب تک محدود ہو گئی ہے، ان کا کوئی نظریہ نہیں ہے۔ جن جماعتوں کا کوئی نظریہ اور وژن نہیں ہوتا وہ اسی طرح سکڑتی ہیں۔ آنے والے انتخابات تک یہ جماعتیں چند حلقوں تک محدود ہو جائیں گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مل کر چلنے اور بات چیت چاہتی ہے لیکن اپوزیشن مقدمات سے آگے بڑھنے والی نہیں ہے۔











