پاکستان علاقائی رابطوں کو انتہائی اہمیت دیتا ہے،پاکستان اور وسطی ایشیا بے پناہ قدرتی و انسانی وسائل سے مالامال اور بڑی کنزیومر مارکیٹس ہے؛  وزیر اعظم عمران خان

43

اسلام آباد،16جولائی  (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی رابطوں کو انتہائی اہمیت دیتا ہے،پاکستان اور وسطی ایشیا بے پناہ قدرتی و انسانی وسائل سے مالامال اور بڑی کنزیومر مارکیٹس ہے،دونوں خطے کے لوگوں کی زندگی تبدیل کر سکتے ہیں۔پاکستان وسطی ایشیا اور دیگر ممالک کو تجارت اور ٹرانزٹ کیلئے بحیرہ عرب کیساتھ ملانے کی غرض سے گوادر اور کراچی بندرگاہوں کی پیشکش کیلئے تیار ہے۔

جمعہ کو تاشقند میں ”وسطی و جنوبی ایشیا 2021:علاقائی رابطے : چیلنجز اور مواقع” کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے جدید معاشروں اور اقتصادی ترقی و پیشرفت کیلئے علاقائی رابطوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ جغرافیائی،جیو اکنامک صورتحال اور ثقافت دونوں خطوں کے درمیان رابطوں کے فروغ کیلئے یکساں مواقع فراہم کرتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے ازبلکستان کے تاریخی دورے کے دوران جمعہ کو وسطی و جنوبی ایشیا علاقائی ربطوں سے متعلق کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں شرکت کی۔کانفرنس کا اہتمام ازبکستان کی حکومت نے صدر شوکت مرزایوف کے خصوصی اقدام کے تحت وسطی اور جنوبی ایشیاءمیں تجارت اور ٹرانسپورٹ رابطوں کیلئے بین الاعلاقائی تعاون کو فروغ دینے کی غرض سے کیا تھا۔

وزیر اعظم نے اقتصادی ترقی کے محرک کے طور پر علاقائی رابطوں کی اہمیت کو اجاگر کیا جو جدید معاشروں کی تشکیل کیلیئے ناگزیر ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں خطوں کے باہمی رابطوں کی بحالی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ80ملین آبادی پر مشتمل وسطی ایشیائی ریاستیں مستحکم اور ترقی کرتی ہوئی معیشتیں ہیں،جہاں قدرتی توانائی کے بے پناہ وسائل ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان علاقائی رابطوں کو انتاہئی اہمیت دیتا ہے کیونکہ ہماری حکومت کی”وژن وسطی ایشیائی“ پالیسی کا حصہ ہے۔پاکستان نے متعدد ٹی آئی آر کنونشن،ڈبلیو ٹی او ٹریڈ سمیت متعدد دو طرفہ،ریجنل اور انٹرنیشنل ٹریفک و ٹرانزٹ معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیاءکو تجارت اور ٹرانزٹ کیلئے بحیرہ عرب کیساتھ ملانے کیلئے کراچی اور گوادر کی اپنی بندر گاہوں کی پیشکش کیلئے تیار ہے۔

وزیر اعظم عمران خان افغان امن عمل اور بین الاافغان مذاکرات میں پاکستان کے اہم کردار کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ افغان تنازعہ صرف افغان حکومت اور عوام کی سرپرستی میں ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں  نے افغانستان میں پائیدار امن کیلئے غیر ملکی فوجی انخلا کے بعد بین الاقوامی برادری کی مسلسل انگیجمنٹ کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں  نے  کہا کہ افغانستان میں اندرونی تنازعہ کیلئے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا ناانصافی ہے۔