جلال پورپیروالہ کے نواحی علاقہ شہنی میانی بستی شیخاں والی میں با اثر قبضہ مافیا نے 1985 میں تعمیر ہونے والہ گرلز پرائمری سکول کو مسمار کرکے زمین پر فصل کاشت کرلی، علاقہ مکینوں کا قابضین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

90

جلالپور، 02 اگست(اے پی پی): جلال پورپیروالہ میں قبضہ مافیا بے لگام ہوگیا نواحی علاقہ شہنی میانی بستی شیخاں والی میں بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لئے 1985 میں گرلز پرائمری سکول تو قائم کیا گیا تھا لیکن اس سکول میں بچوں کو تعلیم نہ دی جاسکی، مقامی لوگوں نے میڈیا کو بتایا کہ ماسٹر محمد بلال شیخ سے ساز باز ہوکر علاقے کے مقامی کاشتکار نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے مزکورہ سکول کے 2 کمرے اور چار دیواری کو توڑ کر سریا، دروازے،گاڈر اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے لیا جبکہ سکول کی 4 کنال زمین پر ہَل چلا کر اپنی فصلیں کاشت کرلی ہیں مقامی کاشت کار محمد بخش، غلام اکبر، محمد قاسم، جام محمد بخش، جام صادق و درجنوں دیگر افراد نے بتایا کہ ملزمان کے اس جرم کی نشاندہی کرنے پر ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔

علاوہ ازیں سکول کی عمارت مسمار کرکے سامان اور زمین پر قبضہ کرنے پر سابق ڈپٹی کمشنر ملتان نسیم صادق کے حکم پر ملزمان ماسٹر محمد بلال شیخ، سعید احمد شیخ، امیر بخش و دیگر افراد پر مقدمہ بھی درج ہوا تھا جو کہ ملزمان اپنے اثرورسوخ استعمال کرکے خارج کرالیا تھا، مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اس سکول میں قریبی علاقوں کے بچے بھی پڑھنے آتے تھے لیکن اب سکول نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں اپنے بچوں کو قریبی بستی کے سکول میں لے جانا پڑتا ہے، مقامی لوگوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، وزیر تعلیم شفقت محمود، ڈپٹی کمشنر ملتان، اسسٹنٹ کمشنر جلال پور سے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور شہنی میانی بستی شیخاں والی میں سکول قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔