اسلام آباد۔2اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ معذور افراد معاشرے کا حصہ ہیں اور وزیراعظم ان افراد کے لئے کچھ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز پاکستان سپورٹس کمپلیکس میں پاکستان سپورٹس کونسل کے زیراہتمام سپورٹس فیسٹیول وہیل چیئر کرکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سینیٹر عون عباس، پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل کرنل آصف زمان (ریٹائرڈ) اور ایونٹ کے چیف آرگنائزر آغا حسنین رضا بھی موجود تھے، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نےپاکستان کے مختلف شہروں سے آئی ہوئی وہیل چیئر کرکٹ ٹیموں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کھلاڑیوں کو بھی زیادہ سے زیادہ کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینا چاہئے اور وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق نوجوان کو کھیلوں کے میدان آباد کرنے چاہئے اور کونسل یونین کی سطح پر کھیلوں کے کلب ہونے چاہئے جس سے گراس روٹ سطح پر کھیلوں کو فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے صرف پاکستان ہی متاثر نہیں ہے بلکہ اس نےدنیا کو بدل دیا ہے اور اس سے کھیلوں کو بہت نقصان پہنچا ہے اور اب بھی پوری دنیا ان حالات سے گزر رہی ہے۔اور ہمیں کرونا وائرس کی احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے ایس او پیز کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ معذور اور خصوصی افراد معاشرے کا حصہ ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہمارا فرض ہے اور وزیر اعظم عمران خان ایک سپورٹس مین ہیں، وزیراعظم ان افراد کے لئے کچھ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ جس طرح وفاقی حکومت نے کرونا کو ہینڈل کیا دنیا اس سمارٹ لاک ڈاؤن ماڈل کو کاپی کر رہی ہے، کرونا وائرس نےسپورٹس کو بہت متاثر کیا ہے،انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ اس فیسٹیول میں زیادہ سے زیادہ ٹیمیں حصہ لیتی لیکن کرونا وائرس کے باعث ایسا نہ ہوسکا، انہوں نے کہا کہ میں پاکستان سپورٹس بورڈ کی صدر ہوں جبکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد سپورٹس سے متعلق زیادہ تر معاملات صوبوں کے پاس چلے گئے ہیں وفاقی وزیر نے کہا کہ نوجوانوں کو انگیج کرنے کے لئے کھیلوں سے بہتر اور کوئی چیز نہیں، سپورٹس کے جو حالات دیکھے وہ کسی ادارے میں نہیں ہیں، سپورٹس کے آج جو حالات اسکی ذمہ دار تمام سپورٹس باڈیز ہیں۔انہوں نے کہا کہ آخری سپورٹس پالیسی 2005 میں آئی اور ہم ایک سپورٹس پالیسی لانا چاہتے ہیں اور نئی سپورٹ پالیسی میں تمام صوبوں، اسٹیک ہولڈر کو اعتماد میں بھی لانا چاہتے ہیں۔ سینیٹر عون عباس نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق کھیلوں کے میدان آباد کرنے ہونگے۔ پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل کرنل محمد آصف زمان (ریٹائرڈ ) نے کہا ہے کہ حکومت کی سپورٹس کی ترقی چاہتی ہے اس میں سپورٹس پالیسی میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیرا اولمپک میں میرا کافی تجربہ رہا ہے خاص کر آرچری اور دوڑ کے مقابلے میں۔ ایونٹ کے چیف آرگنائزر آغا حسنین رضا نے فیسٹیول پر رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ایونٹ میں 20 سے 25 ٹیموں نے شرکت کرنی تھی لیکن کرونا کے باعث چھ ٹیموں کو ایونٹ میں شامل کیا گیا ہے یہ گذشتہ دس سال کھیلا جارہا ہے۔ انہوں نے پاکستان سپورٹس کمپلیکس میں سہولیات فراہم کرنے پر وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔











