آپ اپنی سوچ اور عقیدے کو کسی دوسرے پر مسلط نہیں کر سکتے،علماء ضابطہ اخلاق پر عمل کریں، جو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرے گا اس کی کوئی حمایت نہیں، وزیراعظم کے خصوصی نمائندہ برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی کا علماء کنونشن سے خطاب

17

اسلام آباد۔3اگست  (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ امور  حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ بین المسالک حسن تعلق قائم ہو جائے تو ملک کیخلاف تمام سازشیں دم توڑ جائیں گی، ہمیں اپنے مشترکات اور مقدسات کا احترام یقینی بنانا ہوگا، آئین میں تمام مسالک و مذاہب کو ان کا حق دیا گیا ہے، محرم الحرام میں امن و امان کیلئے رابطہ دفاتر قائم کر دیے ہیں، قانون توڑنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی، ہم نے واضح کردیا کہ ہم افغانستان میں امن کے ساتھی ہیں، امن کے لئے تیار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں اسلامی نظریاتی کونسل کے زیر اہتمام ‘ملی ارتباط :مختلف مسالک کے درمیان روابط و حسن تعامل کا لائحہ عمل’ کے عنوان پر منعقدہ فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ بین المسالک حسن تعلق قائم ہو جائے تو ملک کیخلاف تمام سازشیں دم توڑ جائیں گی، دشمنوں نے مسلمانوں میں فرقہ پرستی اور مسالک کو باہم لڑانے اور دوریاں پیدا کرنے کے لئے بہت کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے قیام کے روز شیعہ سنی کے نام پر 15 لاشیں گری تھیں، ہمارے اکابرین نے قتل و غارت کیخلاف قوم کو جمع کیا۔ انہوں نے کہا کہ امام حسین تو سب کے ہیں، محرم الحرام کے ایام کے دوران خوف رہتا ہے کہ دشمن اپنا کھیل کھیلنے کے لئے آگ نہ لگا دے۔ انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان سے متفقہ ضابطہ اخلاق طے کیا گیا ہے، بطور ریاست فیصلہ کیا ہے کہ قانون توڑنے والے کو چھوڑیں گے نہیں، قانون شکنی نہ کرنے والوں کو چھیڑیں گے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے علما و مشائخ سمیت تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے معاشرے کو تقسیم کو روکا، مولانا سمیع الحق، مولانا ضیا فاروقی، علامہ ساجد علی نقوی، قاضی حسین احمد اور مولانا شاہ احمد نورانی جیسے اکابرین نے فرقہ واریت کو ناکام بنایا، آج ہمیں اسی جذبے کی ضرورت ہے کہ دشمنوں کی سازشوں کو سمجھیں اور ناکام بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام ہم سب کا ہے، امام حسین ہم سب کے ہیں مگر دشمن سازش کرتا ہے، اس کو ہم نے ناکام بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام علما، ذاکرین، واعظین متفقہ 14  نکاتی ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد یقینی بنائیں، ہمیں اپنے مشترکات اور مقدسات کا احترام یقینی بنانا ہوگا، آئین میں تمام مسالک و مذاہب کو ان کا حق دیا گیا ہے