فیصل آباد۔8اگست (اے پی پی):وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کی جنگ میں حصہ نہیں بنے گاتاہم پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ افغانستان میں سیاسی استحکام اور پولیٹیکل سسٹم آئے تاکہ وہاں کے حالات درست ہوں‘ افغانستان میں دیرپا امن کے بغیر استحکام اور خطے میں سکون نہیں آسکتا لیکن اس کے برعکس ہندوستان جو کچھ کر رہا ہے اس کے تناظر میں اب افغانستان کے امن میں بھارت کا کوئی کردار نہیں ہوگا‘ پاکستان نے پہلے بھی 50 لاکھ افغان مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دی اور اس وقت بھی تقریباً 30 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان میں موجود ہیں لہٰذا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو چاہیے کہ وہ پاکستان کیلئے دوہرا معیار فوری ختم کرے‘ نیز پاکستان افغانستان میں مستقل بنیادوں پر امن کی بحالی کیلئے کوشاں ہے اور بھارت کی جانب سے آگ بھڑکانے کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔اتوار کی شام ناظم آباد سٹی فیصل آبادکی جامع مسجد کے لان میں شجر کاری مہم کے سلسلہ میں پودا لگانے کی تقریب کے موقع پر میڈیا سے بات چیت میں فرخ حبیب نے مسلم لیگ ن کے حوالے سے کہا کہ م دراصل ش پر حاوی ہوگئی ہے تاہم شہباز شریف کا اپنا انداز ہے کہ وہ اپنے طریقہ کار کے تحت پاؤں پکڑنے کے ماہر ہیں مگر ان کی بھتیجی نے انہیں معزول کردیا ہے لہٰذا شہباز شریف کے پاس اب کوئی اختیار نہیں اور اگرچہ وہ بے اختیار اپوزیشن لیڈر ہیں لیکن پھر بھی ہم انہیں پیشکش کرتے ہیں کہ وہ قومی اہمیت کے معاملات میں حکومت کا ساتھ دیں تاکہ مل بیٹھ کر ملک و قوم کے بہترین مفاد میں لائحہ عمل مرتب ہوسکے۔فرخ حبیب نے کہا کہ پرچی چیئرمین بلوچستان کی فکر چھوڑیں اور سندھ کی فکر کریں جہاں لوگ انتہائی غربت میں زندگی گزاررہے ہیں اور گزشتہ 15 سالوں میں ان کے مسائل کو حل نہ کیا گیا ہے اسی لئے وہ اب اپنے نجات دہندہ کے طور پر وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔وزیر مملکت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے 11 اضلاع کیلئے 450 ارب روپے کا پیکیج دیا ہے جبکہ کراچی میں سہولیات کی فراہمی کیلئے گرینڈ پیکیج اس کے علاوہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تعمیر و ترقی کیلئے بھی ریکارڈ فنڈز رکھے گئے ہیں اور عمران خان کا ویژن ہے کہ بلوچستان کو بھی سہولیات کے حوالے سے دیگر صوبوں کے برابر لایا جا ئے جس کیلئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔قبل ازیں ناظم آباد سٹی فیصل آبادکی جامع مسجد کے لان میں شجر کاری مہم کے سلسلہ میں پودا لگانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ درخت لگانا ہماری قومی ذمہ داری ہے جبکہ ہم نے پاکستان سمیت پوری دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچانا ہے اور اگرچہ حکومت نے موسمیاتی تبدیلی کیلئے 14 سو ارب روپے مختص کئے ہیں تاہم موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیاموسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہو رہی ہے اسی لئے وزیر اعظم عمران خان نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے شجرکاری مہم کا آغاز کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی ایک کال پر پوری قوم نے متحد ہو کر شجر کاری مہم میں حصہ لیااور بہت بڑی تعداد میں نئے ماحول دوست پودے لگائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی شجرکاری مہم کی پوری دنیا معترف ہے یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے عالمی دن کی میزبانی کا موقع بھی پاکستان کو ملا۔انہوں نے کہا کہ ٹین بلین ٹری منصوبہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا تاریخ ساز اقدام ہے جس کے تحت ہر سطح پر شجرکاری کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کو کلین اینڈ گرین بنانے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسی کے تحت فیصل آباد سمیت دیگر شہروں میں وسیع اراضی پر اربن فاریسٹس کاقیام ماحول کو تروتازہ بنانے کی جانب اہم قدم ہے نیز لگائے جانیوالے پودوں کی بقا وسلامتی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماحول کو آلودگی سے بچانے اور آئندہ نسل کو خوشگوار وسرسبزوشادابی فراہم کرنے کیلئے درختوں کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہے اسی مقصد کیلئے ٹین بلین ٹری منصوبہ کے تحت وسیع پیمانے پر شجرکاری کی جارہی ہے۔انہوں نے قومی اہمیت کے پروگرام میں سول سوسائٹی کے تمام طبقات کی بھرپور شرکت کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ شجرکاری مہم پر ایک جذبے کے تحت اقدامات جاری ہیں اور تروتازہ ماحول کیلئے حکومت اپنی کاوشیں جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ ہر بشر دو شجر کا مقصد شہریوں کو دستیاب جگہوں پر زیادہ سے زیادہ قدآور پودے لگانے کی ترغیب دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیصل آباد سمیت ملک بھر میں شجرکاری مہم پر عملدرآمد جاری رہے گا اور حکومتی ویژن کے تحت اہداف حاصل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا 10ارب پودے لگانے کا منصوبہ انقلابی اقدام ہے جس پر تیز رفتاری سے عملدرآمد جاری ہے اور اس کی تکمیل کیلئے اقدامات جاری رہیں گے۔











