اسلام آباد۔11اگست (اے پی پی):چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ وطن عزیز کے آئین میں اقلیتی برادری کے حقوق محفوظ ہیں،پاکستان میں اقلیتی برداری اپنے تہوار آزادنہ طور پر مناتے ہیں،آئین پاکستان میں عبادات سمیت اقلیتوں کے تمام حقوق واضح کیے گئے ہیں،اقلیتوں کو جو استحقاق پاکستان میں حاصل ہیں وہ مسلمانوں کو بھی نہیں ۔ یہ بات چیف جسٹس گلزار احمد نے بدھ کو یہاں اقلیتوں کے قومی دن کی مناسبت سے نجی ہوٹل میں ایملپیمنٹیشں آف مینارٹی رائٹس فورم (آئی ایم آر ایف ) کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تقریب کے شرکا نے پاکستان میں اقلیتوں کو حاصل حقوق پر روشنی ڈالی،پاکستان بنانے میں تمام اقلیتوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا ، وطن عزیز کے آئین میں اقلیتی برادری کے حقوق محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتیی رہنماوں کی حلف برداری انکی مقدس کتابوں پر ہوتی ہے،اگر اقلیتی رہنماوں کو حلف برداری میں کوئی مسئلہ ہے تو اٹارنی جنرل آف پاکستان اسے حل کریں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کہ کیلاش اور سکھ برادری کے رہنماوں نے کچھ مسائل پیش کیے جن کو حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تقریب میں کسی نے کہا کہ اقلیتوں کو کوٹا نہیں ملتا ،ان کو بتاتا چلوں کہ پاکستان میں اقلیتوں کیلئے 5 فیصد کوٹا ہے اس میں اپلائی کریں ،اگر کسی اقلیتی رکن کو کوئی رکاوٹ ہے تو عدالتوں سے رجوع کریں ،ہم مسئلے کو حل کریں گے، اقلیتوں کا جوکوٹا ہے وہ ان کو ضرور ملے گا,،قانون کے سامنے کوئی مسلمان،عیسائی،سکھ اور ہندو نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ جب میں سندھ ہائیکورٹ کا جج تھا تو ہندو برادری کے متعدد مقدمات نمٹائے،ہم نے سندھ میں جاگیرداروں اور وڈیروں سے مظلوم لوگوں کو آزاد کرایا۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پاکستان کے 1973 کے آئین کا پہلا حصہ اقلیتوں سمیت تمام پاکستانیوں کے بنیادی حقوق کا پاسدار ہے،آئین کا آرٹیکل 20 پاکستان کے تمام شہریوں کو مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے،آئین کا آرٹیکل 21 تمام مذاہب کو بنا ٹیکس ادائیگی کے مذہبی عقائد پورے کرنے کا حق دیتا ہے،آئین کا آرٹیکل 22 تمام پاکستانی شہریوں کو بلا تفریق تعلیم کا حق دیتا ہے،آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت پاکستان کا ہر شہری آئین و قانون کی نظر میں برابر ہے،پاکستان میں اقلیتوں کو تمام آئینی حقوق حاصل ہیں،اقلیتی برداری اپنے تہوار آزادنہ طور پر مناتے ہیں،آئین پاکستان میں عبادات سمیت اقلیتوں کے تمام حقوق واضح کئے گئے ہیں ۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وطن عزیز میں تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کیلئے خصوصی سیکیوریٹی فراہم کی جارہی ہے،کرک اور رحیم یار خان میں مندروں پر حملے کے واقعات افسوسناک ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سکھ برادری پاکستان کا اہم حصہ ہے،سکھ برادری نے کرپا کو عدالتوں میں لے جانے کا نقطہ اٹھایا ہے ،عدالتوں میں کرپا لیکر جانے کی حد تک اجازت میں دے سکتا ہوں،کسی اور مقام پر کرپا لیکر جانے کی اجازت کیلئے اٹارنی جنرل سے رابطہ کریں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ غیر مسلم لڑکیوں کی کم عمری کی شادی سے متعلق قانون موجود ہے،سندھ میں کم عمری کی شادیوں کے مسائل ہیں،کچھ لڑکیاں اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کر کے شادی کرتی ہیں،اٹارنی جنرل کم عمری کی شادیوں کے مسائل کو بھی دیکھیں ۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو سندھ میں ہندو برادری کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہندو برادری کے سکالرشپ اور ہاسٹل وغیرہ کے مسائل بھی حل کریں گے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اقلیتوں کو جو استحقاق پاکستان میں حاصل ہیں وہ مسلمانوں کو بھی نہیں،سپریم کورٹ نے 2014 ء ازخود نوٹس میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق تمام پہلووں پر فیصلہ دیا،ون مین اقلیتی کمیشن نے مثالی کام کیا ہے۔ اس موقع پر پاکستان میں تعینات پرتگال کے سفیر پاؤلو نیوس پوسن نے سیمینار سے خطاب میں کہا کہ ہر نسل رنگ اور مسلک سے تعلق رکھنے والا انسان برابر ہے،اقلیتوں کو عالمی بنیادی حقوق حاصل ہیں،اقلیتیں معاشرے میں مختلف ثقافتوں کا خوبصورت عکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکثریت میں بسنے والوں اور اقلیتوں کے حقوق برابر ہونے چاہیں ،اقلیتوں کے حقوق ان کی بہتر زندگی کیلئے ناگزیر ہیں،ہمیں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہئے۔اس دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان ،ون میں اقلیتی کمیشن کے سربراہ شعیب سڈھل ،وزیر اعلی خیبر پختونخواہ کے سپیشل اسٹنٹ برائے اقلیتی امور وزیر زادہ ،چیئرمین ایملپیمنٹیشں آف مینارٹی رائٹس فورم (آئی ایم آر ایف )سیموئل پیارا ، ہندو کمیونٹی کے سرونتھ کمار بھیل ،سکھ برادری کے ڈاکٹر شیب سنگھ اور عیسائی برادری کے فرانس شو سمیت دیگر نے پاکستان میں اقلیتوں کو حاصل حقوق پر روشنی ڈالی ۔ تقریب میں سکھ برادری ،ہندو برادری ،عیسائی برادری کے معززین ،سول سوسائٹی ،سیاستدانون اور میڈیا نمائندوں سمیت دیگر نے شرکت کی ۔











