اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ داسو حملے کے تمام نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے،منصوبہ بند دہشت گرد حملے میں این ڈی ایس اور ’’را ‘‘ملوث ہے،حملے کیلئے افغانستان کی سرزمین استعمال کی گئی۔مبینہ خود کش حملہ آور کے جسم کے اعضاء ملے ہیں اور دھماکے کیلئے استعمال ہونے والی گاڑی کا بھی پتہ چلایا ہے۔دشمنوں کو پاکستان کے اندر چینی سرمایہ کاری اور چینی تعاون ہضم نہیں ہورہی اور وہ ان سے خائف ہیں۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی خیر پختونخوا کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث سپورٹ نیٹ ورک کی گرفتاریاں عمل میں آ چکی ہیں جبکہ حملے میں سو سے ایک سو بیس کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔جمعرات کو وزارت خارجہ میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے داسو حملے کی تحقیقات سے صحافیوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ داسو واقعہ پر چینی حکام کو مکمل طور پر آگاہ رکھا گیا،چینی وفد کو جائے وقوعہ پر لے جایا گیا ۔اس نتائج تک پہنچنے کیلئے ہم نے 36 سی سی ٹی وی کیمرے اور 1400 کلومیٹرز کے روٹ کا جائزہ لیا،انہیں سامنے رکھتے ہوئے ہم نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دہشت گرد حملے کیلئے افغانستان کی سرزمین استعمال کی گئی اور اس میں افغانستان کی این ڈی ایس اور بھارتی ’را‘ کا ہاتھ ہے۔جائے وقوعہ سے حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی سے ہمیں موقع پر خود کش حمہ آور کے جسم کے بعض ٹکڑے ملے ہیں۔ان اعضاءکا بھی تجزیہ کیا گیا،ہم نے وہاں سے ملنے والے موبائلوں کے ڈیٹا کا بھی جائزہ لیا۔ہم نے چینی وفد کیساتھ پاکستانی اداروں کی جانب سے کی گئی تمام تحقیقات شیئر کیں۔انہوں نے ہمارے تحقیقات پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ظاہری طور پر یہ ایک بلائنڈ کیس تھا لیکن اس پیچیدہ کام کو ہمارے اداروں نے خوش اسلوبی سے سرانجام دیا۔اس کے علاوہ داسو پروجیکٹ میں کام کرنے والے ایک ہزار سے زیادہ ورکرز کو بھی تحقیقات میں شامل کیا گیا۔جو گاڑی اس واقعہ میں استعمال ہوئی اس کا بھی سارا پتہ چلا لیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری تحقیقات کے مطابق اس واقعہ کیلئے افغانستان کی سرزمین استعمال کی گئی،حملے کی منصوبہ بندی این ڈی ایس اور را نے مل کر کی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گرد گرد جو چاہتے تھے وہ حاصل نہیں کر پائے۔واقعہ کے بعد چین اور پاکستان نے ایک نئے عزم کا اظہار کیا ہے اور مل کر اس بزدالانہ فعل کا مقابلہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری تحقیقات سے چین مکمل مطمئن ہے۔ایسے واقعات ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتےبلکہ ہمارے تعلقات مزید مظبوط ہونگے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے سی پیک منصوبوں کی سیکورٹی مزید مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبے نہ صرف جاری رہیں گے بلکہ بروقت مکمل کئے جائینگے۔دونوں ملکوں کے مابین سدا بہار تعاون پر مبنی سٹرٹیجک شراکت داری میں کسی صورت رکاوٹ نہیں آئیگی ،ہم افہام و تفیم اور تعاون کو مزید وسعت دینگے۔وزیر خارجہ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی آپس میں افہام و تفہیم ہے کہ ہم اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے لیکن اب ہم نے افغانستان کی سرزمین کے استعمال ہونے کا معاملہ اٹھایا ہے۔اس انڈرسٹیندنگ کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ہمیں توقع ہے کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں گے اور جب انہیں ہماری مدد درکار ہو گی تو یقیناً ہم بھی ان کے ساتھ تعاون کریں گے۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا جاوید اقبال نے کہا کہ داسو حملے میں ملوث سپورٹ نیٹ ورک کی گرفتاریاں عمل میں آ چکی ہیں،ہمارے اداروں، ایجنسیوں نے دن رات کام کر کے ان تحقیقات کو نتیجہ خیز بنایا۔انہوں نے کہا کہ حملے کیلئے جو گاڑی استعمال کی گئی وہ افغانستان سے چمن کے راستے سے داخل ہوئی اور پھر مختلف رارستوں سے ہوتی ہوئی سوات اور پھر وہاں پہنچی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد نیٹ ورک کو ہم گرفتار کر چکے ہیں اور نیٹ ورک کے سرغنے معاویہ اور خالد شیخ افغانستان میں موجود ہیں ،انکی گرفتاری کیلئے متعلقہ چینل کے ذریعے رابطے میں ہیں۔وزیر خارجہ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین کی خواہش ہے کہ اس واقعہ کے ذمہ داران کو بے نقاب کیا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے اور ہم اسی راستے پر گامزن ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ عالمی برادری اس کا نوٹس لے گی،ہم اسے ہر فورم پر لے کر جائیں گے کیونکہ اس سانحہ میں معصوم لوگوں کی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ چین کا کردار انتہائی ذمہ دارانہ تھا انہوں نے کہا کہ پاکستان پر ہمیں مکمل اعتماد ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کی صرف یہ خواہش تھی کہ انہیں تحقیقات کے نتائج سے آگاہ رکھا جائے اور ہم نے رکھا۔پاکستان کی پوری قوم نے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنایا ہے اور ہماری یہ کاوش جاری رہے گی۔











