افغان خانہ جنگی کی صورت میں ہمارا معاشی ایجنڈا متاثر ہو گا، ہم نہیں چاہتے کہ پھر خانہ جنگی ہو، وزیراعظم عمران خان کی غیر ملکی میڈیا نمائندگان سے گفتگو

34

اسلام آباد۔12اگست  (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے  کہا کہ افغان خانہ جنگی کی صورت میں ہمارا معاشی ایجنڈا متاثر ہو گا، ہم نہیں چاہتے کہ  پھر خانہ جنگی ہو۔ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان  میں ممکنہ طویل خانہ جنگی کی صورت میں افغانستان کے بعد دوسرا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک پاکستان ہوگا، ہم سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، پہلی وجہ یہ ہے کہ افغانستان سے زیادہ پختون پاکستان میں ہیں، طالبان بنیادی طور پر پختونوں کی تحریک ہے اور اس کے اثرات پاکستانی علاقوں میں آئیں گے، 2003 اور 2004 کے بعد ایسا ہوچکا ہے اور ہمارے پختوں علاقوں میں افغانستان کی صورت حال کے نتیجے میں رد عمل آیا اور پاکستان کو 70 ہزار جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا کیونکہ ہم نے امریکہ کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ ہمارے پختوں علاقوں میں پھر مسائل پیدا ہوں گے، ستر ہزار جانوں اور معیشت کو100ارب ڈالر سے زائد کے نقصان کے ساتھ ہمارے قبائلی علاقوں سے 30 لاکھ افراد کو اپنے گھروں کو چھوڑنا پڑا، یہ پہلی پریشانی ہے، دوسری پریشانی پناہ گزینوں کی ہے، ہمارے ہاں پہلے ہی 30 لاکھ رجسٹرڈ افغان پناہ گزین موجود ہیں، ہماری معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور ہم ایسا ہر گزنہیں چاہیں گے کہ مزید پناہ گزین پاکستان آئیں اور تیسری بات یہ ہے کہ ہم نے افغانستان کے راستے وسط ایشیاء کے ساتھ رابطوں کے عظیم منصوبے بنائے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ازبکستان سے افغانستان میں مزار شریف  کے راستے پاکستان تک ریلوے لائن منصوبے کے سلسلے میں میں حال ہی میں تاشقند گیا تھا جو اس پورے خطے کو آپس میں ملائے گی، افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت میں وسط ایشیاء کے ساتھ روابط پر مبنی ہمارا معاشی ایجنڈا پس پشت چلا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کی جانب سے نامزد یا منتخب کردہ کسی بھی حکومت کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہے، افغان عوام جس حکومت کو بھی اپنا نمائندہ سمجھیں گے پاکستان اس کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہے۔