جہاں فوج نہ ہو اور ادارے مضبوط نہ ہوں، وہ ملک نہیں چل سکتے، اپنے دائیں بائیں دیکھ لیں جہاں ملک محفوظ نہیں وہاں گھر بھی محفوظ نہیں؛ وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین

15

اسلام آباد،24اگست  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بھارت کا کوئی بارڈر افغانستان سے نہیں ملتا، بھارت افغانستان میں مداخلت سے باز رہے، پاکستان نے ہمیشہ افغان مسئلہ کے سیاسی حل کی بات کی، پاکستان نے افغانستان میں مقیم غیر ملکی شہریوں کے انخلاءمیں سہولت دی، قومی ایئر لائن نے اب تک کابل سے 1500 افراد کے انخلاءکو یقینی بنایا، جہاں فوج نہ ہو اور ادارے مضبوط نہ ہوں، وہ ملک نہیں چل سکتے، اپنے دائیں بائیں دیکھ لیں، جہاں ملک محفوظ نہیں ہیں وہاں گھر بھی محفوظ نہیں۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری افغانستان کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر ہے۔ پاکستان افغانستان سے غیر ملکی افراد کے انخلاءمیں اہم کردار ادا کر رہا ہے، اس وقت ہم نے مختلف ممالک کے ہزاروں افراد کو افغانستان سے انخلاءمیں سہولت فراہم کی، 3500 سے زائد افراد کو بذریعہ ہوائی جہاز جبکہ 19 ہزار افراد کو بارڈر کے ذریعے انخلاءمیں مدد فراہم کی، اس پورے عمل میں پاکستان سب سے اہم اسٹیک ہولڈر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن نے 1500 سے زائد افراد کو انخلاءمیں سہولت دی، اس وقت ہم غیر ملکی شہریوں کے لئے اپنے بارڈرز کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں، پاکستان نے فی الوقت اپنی فضائی اور زمینی سرحدیں کابل میں پھنسے غیر ملکی شہریوں کے لئے کھولی ہیں۔

 وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جہاں تک افغانستان میں حکومت سازی کا عمل ہے، اس میں ہم ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہے ہیں، ہمارا ترکی، چین اور دیگر ممالک کے ساتھ قریبی رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں مسلسل سیاسی حل کی بات کر رہے تھے، اگر پاکستان کی ایڈوائس پر عمل کیا ہوتا تو آج افغانستان میں اس قسم کی صورتحال نہ ہوتی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت افغانستان کے اندر مداخلت سے باز رہے، ہندوستان کا افغانستان کے ساتھ کوئی بارڈر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پچھلی حکومت کے دوران بھارت نے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا، بھارتی میڈیا اس وقت بھی افغانستان میں امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان معاملات سے ہندوستان کا کوئی تعلق نہیں، اس کا کوئی بارڈر افغانستان سے نہیں ملتا، بھارت کو افغانستان کے معاملات میں دخل اندازی کی ضرورت نہیں، اسے ان معاملات سے دور رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن عمل کا اہم شراکت دار ہے، ہم نہیں چاہتے کہ کوئی دوسرا ملک بشمول بھارت امن کے عمل کو سبوتاژ کرے۔

 وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز اور وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے آئی ووٹنگ پر بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ آج تک کوئی ایسا الیکشن نہیں ہوا جس میں اپوزیشن شفاف طریقے سے جیتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی پوری کوشش ہے کہ سابقہ نظام برقرار رہے، یہ 90 لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کے آئینی حق سے محروم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے اپوزیشن کے اس رویئے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے دھاندلی کے خلاف جب چار حلقے کھولنے کے لئے دھرنا دیا تھا، اس کے بعد قابل احترام سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن قائم ہوا، اس جوڈیشل کمیشن نے 36 سفارشات پیش کیں جن میں سے زیادہ تر سفارشات کا حل ای وی ایم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جو اصلاحات لا رہے ہیں، جوڈیشل کمیشن کی سفارشات ان ان اصلاحات کا لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے آئی ووٹنگ کے نظام پر نادرا کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کو جلد از جلد نمٹائے۔

 وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے زرمبادلہ کی وجہ سے ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے، اوورسیز پاکستانیوں کی بڑی تعداد وزیراعظم عمران خان کی قیادت پر اعتماد کرتی ہیں اور دنیا بھر سے ترسیلات پاکستان آ رہی ہیں۔ چوہدری فواد حسین نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کو کورونا کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی ہے۔ اس وقت خیبر پختونخوا اور پنجاب میں ہسپتالوں پر بوجھ میں اضافہ ہوا ہے، موجودہ صلاحیت کے مطابق 70 فیصد آکسیجن استعمال ہو رہی ہے، اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو صنعتوں کو آکسیجن کی سپلائی کم کرنا ہوگی تاکہ مریضوں کو آکسیجن کی فراہمی جاری رکھی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں ہسپتالوں پر مریضوں کے بوجھ میں اضافہ ہوا ہے، ان معاملات کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔

 وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں خواتین سے متعلق واقعات پر بھی بات ہوئی، وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مینار پاکستان جیسے واقعات معاشرے کے ہر طبقے کے لئے تشویشناک ہیں۔ ٹک ٹاک جیسے رجحانات کے خلاف معاشرے میں ایک ردعمل آ رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے جنسی جرائم اور دیگر غیر اخلاقی رجحانات کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ اس حوالے سے مباحثے کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کا جائزہ لینے اور اس سے نمٹنے کے لئے سفارشات مرتب کرنے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جس میں معروف علمائے دین، دانشور اور سول سوسائٹی کے نمائندگان شامل ہوں گے۔

 انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ڈاکٹر محمد اشفاق کو نیا چیئرمین ایف بی آر تعینات کرنے کی منظوری دی، ڈاکٹر احمد مجتبیٰ کو انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان کے چیئرمین کی تعیناتی تک اس عہدے کا اضافی چارج دینے کی منظوری دی۔ کابینہ نے عدیلہ خان کی ممبر نیشنل کمیشن برائے خواتین (برائے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری) تعیناتی کی بھی منظوری دی۔ اس کے علاوہ وفاقی کابینہ نے 37 نئی ادویات کی قیمتیں تعین کرنے کی بھی منظوری دی۔ انہوں نے بتایا کہ 12 ایسی ادویات ہیں جو پاکستان میں موجود تھیں، ان کی قیمت میں ردوبدل کیا گیا ہے۔

چوہدری فواد حسین نے بتایا کہ کابینہ نے پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں پاور ڈویژن کی نمائندگی کو یقینی بنانے کی غرض سے اس تجویز کو منظور کیا کہ سیکریٹری پاور ڈویژن کا نمائندہ جو گریڈ 20 سے کم نہ ہو، کو بطور ممبر شامل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کابینہ نے ڈاکٹر ندیم ظفر کو پاکستان ادارہ برائے شماریات کا سربراہ تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ اہم اسامی ہے، اس پر تقرری تین سالوں سے زیر التواءتھی۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ملک کے گرداوری نظام کو ڈیجیٹل کرنے کے عمل کی ذمہ داری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی سے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور وزارت برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کو تفویض کرنے کی تجویز کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کمشنر برائے انڈس واٹرز کے لئے مناسب امیدوار کے انتخاب میں پیش آنے والے مسائل اور مختلف وجوہات کا جائزہ لینے کے لئے قائم کمیٹی کی سفارشات کابینہ کے سامنے پیش کی گئیں، کابینہ نے ان سفارشات کی منظوری دے دی ہے۔

 وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ نے ممبر (فائنانس) آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے حوالے سے اشتہار کی منظوری کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر جنرل (آئل) عمران احمد کو سلیکشن کمیٹی میں شامل کرنے اور اس اسامی کے لئے ایم پی اسکیل اختیار کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 16 اگست 2021ءکے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ ان فیصلوں میں برآمداتی شعبوں کو رعایتی نرخوں پر بجلی اور آر ایل این جی فراہم کرنے جیسے معاملات پر فیصلے شامل تھے۔ یہ اس لئے ضروری تھا کہ ٹیکسٹائل جیسے برآمدی سیکٹر سے متعلق کاروباری برادری کا اعتماد ہو سکے، اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی اس رعایت کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ کو موجودہ معاشی اعشاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشی اشاریئے زبردست ہیں، ہماری برآمدات میں استحکام نظر آ رہا ہے۔ افراط زر اور مہنگائی میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مئی میں افراط زر 10.9 فیصد، جون میں 9.7 فیصد جبکہ جولائی میں 8.4 فیصد رہا۔ ایس پی آئی مئی میں 16.9 فیصد، جون میں 15.4 فیصد جبکہ جولائی میں 12.6 فیصد رہا۔ اس حساب سے اس میں تقریباً چار فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر کموڈیٹی پرائس بہت زیادہ اوپر گئی ہے، خوردنی تیل، اسٹیل اور دیگر اشیاءکی قیمتوں میں زیادہ اضافہ ہوا ہے لیکن پاکستان میں قیمتوں میں کمی کے حوالے سے مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ ڈیٹ ٹو جی ڈی پی کی شرح میں مسلسل کمی آ رہی ہے جو انتہائی حوصلہ افزاءہے، بیرون ملک سرمایہ کاروں کے اعتماد میں 108 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی استحکام نظر آ رہا ہے جبکہ مجموعی طور پر لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 14 فیصد کا اضافہ ریکارڈکیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے الیکشن آرڈیننس (تیسری ترمیم) کی منظوری دی ہے، یہ اہم آرڈیننس زیر التواءتھا، اس آرڈیننس کے تحت جن لوگوں نے 60 دن کے اندر اپنے عہدوں کا حلف نہیں اٹھایا، تو ان کی رکنیت ختم ہو جائے گی۔ کابینہ نے اس آرڈیننس کو جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔ ایسے تمام لوگ جنہوں نے اپنے عہدوں کا حلف نہیں اٹھایا، اس آرڈیننس کی منظوری کے بعد وہ اپنی نشست کھو دیں گے۔

 ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ طویل عرصے کے بعد پہلی مرتبہ ہندوستان سے ٹی ٹی پی کو فنڈنگ کا سلسلہ رکا ہے، جہاں تک پاکستان کے اندر ان کی کارروائی کا تعلق ہے، پاکستان کمزور ملک نہیں، ہم ان چیلنجوں سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکام نے اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہونے کا اعلان کیا ہے جو خوش آئند ہے، امید ہے افغان حکام اس اعلان پر عمل درآمد بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مطلوب بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے حوالے سے افغانستان تعاون کرے گا۔

 ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ڈی ایم کا مستقبل یہی ہے کہ وہ لندن میں شادیاں کرائیں گے، لندن میں ہی مزید فلیٹس خریدیں گے، اب دیکھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کب لندن مبارکباد دینے جاتے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکہ کے سیکریٹری خارجہ بلنکن اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ تین مرتبہ بات چیت ہو چکی ہے، امریکن سنٹرل کمانڈ کے چیف، پینٹا گان اور ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ قریبی مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت دو ٹریک چل رہے ہیں جن میں ترکی، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہیں، پاکستان اس کا حصہ ہے، اس کے علاوہ دوہا میں ایک اسٹینڈرڈ ڈائیلاگ چل رہا ہے جس میں چین، پاکستان، روس اور امریکہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ریجن کے فیصلوں میں پاکستان کی مرضی اور ایڈوائس شامل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جو باتیں پہلے کیں وہ درست ثابت ہوئی ہیں۔