آن لائن اور پیشہ وارانہ تعلیم میں آسانیاں پیدا کرکے اعلیٰ تعلیم کو فروغ دے سکتے ہیں ،حکومت نے ملک میں یکساں تعلیمی نظام کا خواب پورا کر دیا ہے،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا بیسٹ یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈ 2020 کی تقریب سے خطاب

23

اسلام آباد۔8ستمبر  (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی  نے کہا ہے کہ آن لائن اور پیشہ وارانہ تعلیم میں آسانیاں پیدا کرکے ہم نہ صرف اعلیٰ تعلیم کو فروغ دے سکتے ہیں بلکہ مارکیٹ کی طلب و رسد کی ضروریات کے تناظر میں تعلیمی ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو بیسٹ یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈ 2020 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حکومت نے ملک میں یکساں تعلیمی نظام کا خواب پورا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے مزید اقداما ت کی ضرورت ہے، یونیورسٹیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے لیکن تعلیمی معیار میں بہتری وقت کی ضرورت ہے، یونیورسٹیوں کے انفراسٹرکچر میں بہتری کے ساتھ ساتھ نصابی مواد پر معیار کا انحصار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے سکالر شپ پروگرام شروع کیا ہے، احساس پروگرام میں تعلیم کے فروغ کیلئے وظائف مختص کئے گئے ہیں ، حکومت میرٹ پر سکالرشپ دے رہی ہے جبکہ تعلیمی اداروں کی جانب سے بھی طلبا کو وظائف دیئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری رہا ، آن لائن تعلیمی نظام کو فروغ دے کر تعلیمی اخراجات میں کمی کی جا سکتی ہے کیونکہ اس طریقہ تدریس سے فزیکل سٹرکچر کا کم سے کم استعمال ہو گا جبکہ تعلیمی مواد بھی آن لائن دستیاب ہو گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ ورچوئل تعلیمی نظام دور جدید کی ضرورت ہے، ورچوئل یونیورسٹی  کم تعلیمی اخراجات کے ساتھ معیاری تعلیم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  موجودہ دور کےمطابق نصاب متعارف کرانا وقت کی ضرورت ہے، یونیورسٹیوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تعلیم کی فراہمی پر توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ  ماضی میں انجینئرز، ڈاکٹرزاور پیشہ ور ماہرین ملازمتوں کی تلاش میں بیرون ملک جاتے تھے لیکن اب ملک میں روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں، پاکستان کے ہنرمند افراد ملک میں موجود مواقع سے استفادہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ  آئی ٹی کے شعبے میں روزگار کےوسیع مواقع موجود ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ خطہ میں اعلیٰ تعلیم کے حوالہ سے پاکستان ابھی پیچھے ہے، پاکستان کی ترقی میں تعلیم کا بنیادی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے فروغ اور معیار کی بہتری میں نصابی مواد اور اساتذہ کا پڑھانے کا انداز انتہائی اہم ہے، اگر آپ کی بات میں وزن ہو تو لوگ اس پر یقین کرتے ہیں، انسانی تعلقات کی بنیاد بھی کمیونیکیشن پر ہے، اقوام اور خاندانوں میں بھی روابط میں کمیونیکیشن کا اہم کردار ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا کہ یونیورسٹیوں کے اساتذہ کو میرٹ پر یہ ایوارڈ دیئے جا رہے ہیں، یونیورسٹیوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی اور تعلیم تک رسائی بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ  یونیورسٹیوں کے قیام کے ساتھ ساتھ فیکلٹی ڈویلپمنٹ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، یونیورسٹیوں میں تعلیم اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان ربط ہونا چاہئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر شائستہ سہیل نے کہا کہ مختلف شعبوں میں اپنی قابلیت اور صلاحیت کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کو یہ ایوارڈ دیا جا رہا ہے، یہ ایوارڈ دینے کیلئے 120اعشاریوں  کے ذریعے قابلیت کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ صدر مملکت نے ڈاکٹر تسلیم انصر آغا خان یونیورسٹی ، ڈاکٹر محمد واصف این ای ڈی یونیورسٹی اور ڈاکٹر ذوالفقار علی زرعی یونیورسٹی ملتان کو بیسٹ یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈ 2020 دیا ۔