اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان اس وقت تاریخ کے مشکل دوراہے پر ہے، موجودہ افغان حکومت عالمی برادری سے تعاون و مدد اور قبولیت کی خواہاں ہے، افغان عوام کی تاریخ ہے کہ انہوں نے کبھی کسی کٹھ پتلی حکومت کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی افغانستان کو باہر بیٹھ کر کنٹرول کیا جا سکتا ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے، پاکستان کسی اور کی جنگ لڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، ہم امریکہ کے ساتھ ویسے ہی تعلقات چاہتے ہیں جیسے اس کے بھارت کے ساتھ ہیں، افغانستان میں افراتفری سے پاکستان کو دہشت گردی اور مزید پناہ گزینوں کی پریشانی ہے۔
بدھ کو امریکی نشریاتی ادارے ”سی این این” کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی تشویش پناہ گزین اور دہشت گردی ہے، اگر افغانستان مستحکم نہیں ہوتا تو پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جس مقصد کیلئے امریکہ افغانستان آیا تھا وہ عالمی دہشت گردوں کا خاتمہ تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان غیر مستحکم ہونے کی صورت میں امکان ہے کہ افغانستان دوبارہ دہشت گردوں کے لئے محفوظ ٹھکانہ بن سکتا ہے، ہم یہ توقع اور دعا کرتے ہیں کہ 40 سال بعد یہاں امن قائم ہو۔ تاہم اس وقت افغانستان کے حوالے سے کوئی بھی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہاں ایک اور غلطی فہمی ہے کہ افغانستان کو باہر سے ہو کر کنٹرول کیا جا سکتا ہے، یہ ایک تاریخ ہے کہ افغانستان کے عوام نے کسی کٹھ پتلی حکومت کی حمایت نہیں کی، اسے عوام میں اچھا تصور نہیں کیا جاتا، اس لئے یہاں بیٹھ کر یہ سوچنا کہ ہم نے کیسے کنٹرول کرنا ہے اس کی بجائے ہمیں ان کی مدد کرنی چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال تشویشناک ہے۔