اسلام آباد، 17 ستمبر (اے پی پی ): وزیرِ اعظم عمران خان کے دورہ تاجکستان کا پہلا روز، پاکستان تاجکستان مشترکہ بزنس فورم میں شرکت کی اور مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں ہوئیں ۔
وزیرِ اعظم عمران خان تاجکستان کے 2 روزہ سرکاری دورے پر دارالحکومت دوشنبے پہنچے،تاجکستان کے وزیرِ اعظم قاہر رسول زادہ نے وزیرِ اعظم عمران خان کا استقبال کیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین ، وزیر برائے بحری امورعلی زیدی سمیت مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر معید یوسف بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اعلیٰ سطحی تجارتی وفد بھی وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے پاکستان تاجکستان بزنس فورم میں شرکت کی اورپاکستان میں مختلف شعبوں میں کاروبار اور سرمایہ کاری مواقع کو اجاگر کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ خطے کے ممالک بالخصوص تاجکستان کے سرمایہ کار ان مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، علاقائی اور عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی حکومت ہر ممکنہ سہولیات فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تاجکستان میں توانائی بالخصوص پن بجلی کےحوالے سے بہت سے مواقع موجود ہیں، بدقسمتی سے پاکستان میں بجلی مہنگی ہے، ہم صاف ،سستی پن بجلی سے استفادہ کرنے کے خواہاں ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کاسا۔1000 منصوبے پر کام تیزہوناچاہیے،منصوبے کی جلد تکمیل چاہتے ہیں۔
فورم وزارت تجارت، سرمایہ کاری بورڈ اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے تعاون سے منعقد ہوا، جس میں 67 پاکستانی جبکہ 150 تاجک کمپنیاں شریک ہو ئیں۔کمپنیوں کا تعلق ٹیکسٹائل، چمڑے کی صنعت، فارماسیوٹیکل، ایگریکلچر، مائننگ، ٹورازم، لاجسٹکس کے شعبے سے ہے۔
دورہ کے دوران وزیر اعظم عمران خان کی قزاخستان کے صدر قاسم جمرات توکائف سے ملاقات ہوئی ۔دونوں رہنماﺅں کا دو طرفہ تعلقات سمیت اہم علاقائی و بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور تجارت،سرمایہ کاری اور ٹرانسپورٹیشن لنکس سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ “وژن سینٹرل ایشیا” پالیسی کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ وزیر اعظم نے ترمز-مزار شریف-کابل-جلال آباد-پشاور کو ملانے والے ٹرانس افغان ریلوے منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔دونوں رہنماﺅں کا زمینی اور فضائی راستوں کے ذریعے رابطے بڑھانے کا فیصلہ کیا ۔وزیراعظم عمران خان کا پاکستان اور خطے کے لیے افغانستان میں امن اور استحکام کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ بین الاقوامی برادری افغان عوام کی مدد ، فوری انسانی ضروریات کو پورا کرے، عالمی برادری معیشت کے استحکام کی غرض سے اقدامات کرنے کے لیے رابطے جاری رکھے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن و سلامتی رابطوں اور ترقی میں معاون ثابت ہو گی۔
وزیر اعظم عمران خان کی ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور بیلا روس کے صدر الیگزینڈر لوکا شینو سے بھی ملاقات ہوئی ۔جس دوران دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے دوطرفہ کوششوں اور علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان بیلا روس کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری ، زراعت اور دفاع سمیت تمام شعبوں میں تعلقات مزید بڑھانے کیلئے پرعزم ہے، افغانستان میں 40 سال سے تنازعات اور عدم استحکام سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا۔انہوں نے کہا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے وسیع تر مفادمیں ہے۔
وزیرِ اعظم عمران خان کے دورہ تاجکستان کے پہلا روز کے حوالے سے وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال میں پاکستان کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔بیلاروس، ازبکستان، ایران اور قزاخستان کے صدور کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ زیادہ فوکس افغانستان پر رہا ہے، دلچسپ نکتہ ہائے نظر سننے کو ملے،ہمیں افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرنا اور جامع حکومت کے لئے آگے بڑھنا ہوگا۔
چوہدری فواد حسین نے کہا کہ اس بات پر تمام فریقین کا اتفاق ہے کہ افغانستان کے عوام کو تنہانہ چھوڑا جائے۔انہوں نے کہا کہ خطے کے تمام رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان میں استحکام کیلئے افغانستان کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔
وزیرِ اعظم عمران خان کے دورہ تاجکستان کے پہلا روز کے حوالے سے مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅد نے کہا کہ پہلے پاک۔تاجکستان بزنس فورم کے اجلاس میں 15 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے،پاکستان سے 70 جبکہ تاجکستان سے 170 کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ تاجکستان کے ساتھ پی ٹی اے، ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ ،کسٹم کے طریقہ کار بینکنگ کے حوالہ سے تبادلہ خیال ہوا ہے،وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق علاقائی روابط اور علاقائی تجارت ہماری پالیسی تھی۔