مشترکہ مفادات کونسل نے سسٹم میں بجلی شامل کرنے کے نئے طریقہ کار کی منظوری دی ہے،آئندہ کوئی بھی بند کمرے میں بجلی کا ٹیرف طے نہیں کر سکے گا؛ وفاقی وزیر حماد اظہر

25

اسلام آباد،22ستمبر  (اے پی پی):قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل نے سسٹم میں بجلی شامل کرنے کے ایک نئے طریقہ کار کی منظوری دی ہے جس کے تحت آئندہ کوئی بھی بند کمرے میں بجلی کا ٹیرف طے نہیں کر سکے گا، کھلے عام جو بھی سستی بجلی فراہم کرنے کی بولی دے گا اس سے بجلی خرید کر سسٹم میں شامل کی جائے گی۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران عظمیٰ ریاض کے سوال کے جواب میں محمد حماد اظہر نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری سے ہم سسٹم میں بجلی شامل کرنے کا ایک نیا طریقہ کار لارہے ہیں۔ پیکسل کا یہ نیا نظام ہے۔ بند کمرے میں ٹیرف طے نہیں ہوں گے جو کھلی بولی کے دوران حکومت کو بجلی فراہم کرنے کے لئے سب سے سستی بولی دے گا اس سے بجلی خریدیں گے۔ ہم آئندہ آٹھ سالوں میں 45 فیصد بجلی پانی اور دیگر قابل تجدید توانائی کے ذریعے شامل کریں گے۔ اس سے ہمارا درآمدی تیل کے ذریعے بجلی بنانے پر انحصار کم ہوگا۔

وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ صوبہ خیبرپختونوا میں کنڈے ڈال کر لائن لاسز میں اضافے کی صورتحال پر قابو پانے کے لئے 20 ارب روپے کی لاگت سے نئی اے بی سی کیبل بچھائی جارہی ہے جس سے صورتحال میں بہتری آئے گی اور لائن لاسز والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوگا۔

قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران شمس النساء کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ گیس ذخیرہ کرنے کے لئے نئے سٹورز بن رہے ہیں جس کی وجہ سے آئندہ موسم سرما میں لوگوں کو گیس کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے گی۔

 وقفہ سوالات کے دوران طاہرہ اورنگزیب کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ ملک بھر کی تمام عدالتوں کو ماڈل کورٹس بنانا چاہتے ہیں تاکہ فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے، اس حوالے سے فنڈز درکار ہوئے تو حکومت فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا  کہ سپریم کورٹ کے نیچے ماڈل کورٹس کام کرتی ہیں۔ سپریم کورٹ اور فیڈرل جوڈیشر اکیڈمی کو تفصیلات فراہم کرنے کی استدعا کردی گئی ہے جونہی معلومات وصول ہوتی ہیں قومی اسمبلی کو آگاہ کردیا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں علی محمد خان نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کے لئے صرف چند عدالتوں کو ہی نہیں تمام عدالتوں کو ماڈل کورٹس بنانا چاہیے۔ اس کے لئے فنڈز درکار ہوئے تو حکومت فراہم کرے گی۔

  قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کی کارروائی جاری تھی کہ اس دوران مسلم لیگ (ن) کے رکن مرتضیٰ جاوید عباسی نے ایوان میں کورم کی نشاندہی کردی جس پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان میں گنتی کا حکم دیا، اس دوران اپوزیشن کے ارکان ایوان سے باہر چلے گئے۔ ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے پر قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح 11 بجے تک کے لئے ملتوی کردیا گیا۔