اسلام آباد، 24 ستمبر (اے پی پی ): وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چھہترویں اجلاس کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر دنیا افغانستان کو نظرانداز کر دیتی ہے تو اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان کے آدھے لوگ پہلے ہی انتہائی زد پذیر ہیں اور اگلے سال تک افغانستان میں تقریباً 90 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے، وہاں پر ایک بڑا انسانی بحران منڈلا رہا ہے اور اس کے نہ صرف افغانستان کے پڑوسیوں بلکہ ہر جگہ سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک غیر مستحکم، افراتفری کا شکار افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گردوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا اور اسی وجہ سے امریکہ افغانستان آیا تھا۔ لہذا آگے بڑھنے کا ایک ہی راستہ ہے۔ ہمیں افغانستان کے عوام کی خاطر موجودہ حکومت کو مضبوط اور مستحکم کرنا چاہئے ۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اگر عالمی برادری طالبان حکومت کو مراعات دیتی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تو اس سے ہر ایک کے لئے یکساں طور پر مفید صورتحال ہو گی،اگر دنیا انہیں اس سمت میں جانے کیلئے ترغیب دے سکتی ہے تو افغانستان میں اتحادی افواج کی یہ 20 سالہ موجودگی بہرحال رائیگاں نہیں جائے گی کیونکہ بین الاقوامی دہشت گردوں کی طرف سے افغان سرزمین استعمال نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت افغانستان کے لئے ایک نازک وقت ہے، آپ وقت ضائع نہیں کر سکتے، وہاں مدد کی ضرورت ہے، وہاں انسانی امداد فوری طور پر دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس حوالے سے جرأت مندانہ اقدامات اٹھائے ہیں، بین الاقوامی برادری کو متحرک ہو کر افغانستان کی مدد کرنی چاہیے ۔











