اسلام آباد،29ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ نیب میں ایف آئی اے کا 7.32 ارب روپے کا کیس ہے، شہباز شریف ،نصرت شہباز ، حمزہ شہباز ، سلمان شہباز کے اکاؤنٹس میں پاپڑ ، کباڑیہ، سیلز مین کے نام سے جعلی ٹرانزیکشنز ہوئیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب بھی موجود تھے۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ شہباز شریف کے خلاف پاکستان میں دو مقدمات ہیں۔ ایک کیس نیب لاہور نے شہباز شریف، مسز نصرت شہباز، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے خلاف دائر کیا جو 7 ارب 32 کروڑ روپے کا ریفرنس ہے جبکہ دوسرا کیس 25 ارب روپے کی کرپشن کا ہے جس میں شوگر انکوائری کمیشن کی تحقیقات ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے 23 جون 2020ءکو ایکشن میٹرک طے کئے، کابینہ نے معاملہ کی مکمل چھان بین کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب اس پر تحقیقات شروع ہوئیں تو معلوم ہوا کہ العربیہ اور رمضان شوگر ملیں ایک منظم منی لانڈرنگ نیٹ ورک چلا رہی تھیں۔ 2008ءسے 2018ءتک دس سالوں میں 57 مشتبہ اکائونٹس سے 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ ہوئی۔ ان اکائونٹس میں سے اکثریت ان شوگر ملوں میں کام کرنے والے ملازمین کے ناموں پر بنائے گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ 2016-17ءمیں العربیہ مل کے نائب قاصد ملک مقصود کے نام سے بنائے گئے اکائونٹ میں 3.7 ارب روپے آئے، فرنیچر شاپ کے مالک حاجی نعیم کے نام سے بنائے گئے اکائونٹ میں 2.8 ارب روپے آئے، یہ اکائونٹ 2008ءاور 2010ءکے درمیان چلتا رہا۔ مشتاق چینی والا کے ڈرائیور محمد وارث کے نام پر وارث انٹر پرائز کمپنی بنائی گئی، اس کے اکائونٹ میں 2.5 ارب روپے آئے، اسی طرح مل میں کام کرنے والے نائب قاصد محمد اسلم کے اکائونٹ میں 1.75 ارب روپے، اظہر عباس کے اکائونٹ میں 1.67 ارب روپے، رمضان شوگر مل کے کلرک غلام شبیر اور خضر حیات کے اکائونٹ میں بالترتیب 1.57 ارب روپے اور 1.42 ارب روپے، قیصر عباس نامی شخص کے اکائونٹ میں 1.37 ارب روپے، رمضان شوگر مل کے نائب قاصد گلزار خان کے اکائونٹ میں 28 ارب روپے، سید محمد اکبر کے اکائونٹ میں 1.25 ارب روپے کی رقم آئی۔ یہ اکائونٹ وحدت روڈ لاہور میں مشتاق چینی والا کے دفتر سے بنایا گیا جس میں مشتبہ آئی ڈی استعمال کی گئی۔ اس کے علاوہ اقرار حسین کے اکائونٹ میں 1.18 ارب روپے، انوار کے اکائونٹ میں 880 ملین روپے، رمضان شوگر مل کے کلرک محمد یاسین کے اکائونٹ میں 715 ملین روپے، محمد مشتاق چینی والا کے اکائونٹ میں 555 ملین روپے، رمضان شوگر ملز کے سیلز منیجر فقیر الدین کے اکائونٹ میں 56 کروڑ روپے، رمضان شوگر مل کے اکائونٹنٹ ظفر اقبال انجم کے اکائونٹ میں 52 ارب روپے، رمضان شوگر مل کے ہی ملازم تنویر الحق کے اکائونٹ میں 52 کروڑ روپے، اسی مل کے کلرک کاشف مجید کے اکائونٹ میں 461 ملین روپے اور مسعود انور کے اکائونٹ میں 230 ملین روپے کی رقم آئی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ طویل لسٹ ہے، ان دس سالوں میں جو کچھ ہوا اس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں، آج اسی کرپشن کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام ٹرانزیکشنز بینکوں سے ہوئی ہیں، یہ دستاویزی ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 7 ارب 32 کروڑ روپے کے نیب ریفرنس میں شہباز شریف نے ان وارڈ ٹی ٹیز کیں، نصرت شہباز کے اکائونٹ میں 26 مشتبہ ٹی ٹیز آئیں جو 1.9 ملین ڈالر کی تھیں۔ اسی طرح حمزہ شہباز کے اکائونٹ میں 181 ملین روپے کی 23 جعلی ٹی ٹیز اور 2.98 ملین ڈالر آئے۔ سلمان شہباز کے اکائونٹ میں 18 ملین ڈالر مالیت کی 22 جعلی ٹی ٹیز آئیں۔ انہوں نے بتایا کہ برطانیہ اور یو اے ای سے جن لوگوں کے ناموں سے یہ ٹی ٹیز آئیں ان میں پنڈ دادن خان میں پاپڑ فروخت کرنے والے شخص منظور احمد، یو اے ای میں ایک دکان پر سیلز مین رمیز شاہد، پتوکی کے ذیشان جاوید، گوجرانوالہ میں سکریپ ڈیلر اظہر مغل، فیصل آباد میں سیلز مین رانا ظہیر، حیدر آباد میں سیلز مین عدنان انور شامل ہیں۔ یہ تمام ٹی ٹیز سلمان شہباز، حمزہ شہباز، نصرت شہباز اور شہباز شریف کے نام پر آئیں۔
انہوں نے بتایا کہ مسز رابعہ عمران نے 0.75 ملین ڈالر کی 10 مشتبہ ٹی ٹیز وصولی کیں جبکہ جویریہ علی نے 0.28 ملین امریکی ڈالر کی ٹی ٹیز وصول کیں۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ شہباز شریف کو اپنی پریس کانفرنس کے دوران ان مشتبہ اکائونٹس سے ہونے والی مشتبہ ٹی ٹیز کا جواب دینا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے عوام کا پیسہ لوٹا ہے، یہ پیسہ عمران خان کا اور ہمارا ذاتی پیسہ نہیں، یہ پاکستان کے عوام کا پیسہ ہے، ہم جب بھی احتساب کی بات کرتے ہیں تو ہم اس پیسے کو پاکستان کے لوگوں کے حوالے کرنے کی بات کرتے ہیں، یہ اہم پراسیس ہے، اس میں رکاوٹ یہی ہے کہ اس میں مقدمات روزانہ کی بنیادوں پر نہیں چل رہے۔











