دعا ہے کہ چالیس سال بعد افغانستان کے لوگوں کو امن اور استحکام میسر ہو ، وزیراعظم عمران خان کا ترک ٹی وی کو انٹرویو

13

اسلام آباد۔2اکتوبر  (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان  نے ہفتہ کو ترک ٹی وی ٹی آر ٹی  کو دیئے گئے  انٹرویو کے دوران کہا کہ دعا ہے کہ چالیس سال بعد افغانستان کے لوگوں کو امن اور استحکام میسر ہو۔انہوں نے کہا کہ  ایک شمولیتی حکومت کا مطلب ہے کہ ایک مستحکم افغانستان، وہ لوگ جو افغان عوام کی فلاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، افغان عوام چالیس سال سے تنازعات سے گزر رہے ہیں، جو بھی ان کا بھلا چاہتا ہے وہ ایک مستحکم افغانستان کا خواہشمند ہے۔ مستحکم افغانستان کا مطلب ہے کہ جس میں سبھی کو نمائندگی ملے، مگر طالبان کہتے ہیں کہ عمران خان ایک شمولیتی حکومت کیلئے دبائو ڈال کر افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے  اس حوالہ سے وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پہلی بات افغانستان کے خیرخواہ کی حیثیت سے ہم چاہیں گے کہ وہ مستحکم ہوں اور وہاں ایک شمولیتی حکومت قائم ہو۔ اب وہ شمولیتی حکومت کیسی ہونی چاہیے اس بارے میں طالبان پر مسلط نہیں کیا جاناچاہیے کیونکہ یہ مداخلت ہوگی، اگر آپ انہیں کہیں کہ فلاں فلاں کولازما حکومت میں رکھیں تویہ ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہوگی اور میں تصور کر سکتا ہوں کہ وہ اس پر مزاحمت کریں گے،کیونکہ افغان آزاد ذہنیت کے حامل لوگ ہیں، یہ تصور کہ ان کو باہر سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے غلط ہے، چاہے امریکا ہو یا پاکستان یہ ایک خیال تو ہو سکتا ہے لیکن ایسا ہو نہیں سکتا کیونکہ انکی تاریخ یہی بتاتی ہے۔