اسلام آباد،17نومبر (اے پی پی):وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کے ڈالر قبول تو ووٹ کیوں نہیں قبول؟ہم اُنہیں قومی پالیسیوں میں حصہ دار بنانا چاہتے ہیں۔
بدھ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایوان ایسی قانون سازی کرنے جارہا ہے جس سے ماضی کی خرابیاں اور قباحتیں ختم ہونگی اور شفاف انتخابی نظام ملک میں رائج ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کوئی کالا قانون مسلط نہیں کرنا چاہتی بلکہ ہم ماضی کی کالک دھونا چاہتے ہیں۔ آج ایک تاریخی دن ہے، 1970ء کے بعد جتنے بھی انتخابات ہوئے ان پر سوال اٹھایا گیا ۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی سمت درست کریں اور ایسی قانون سازی کریں کہ ہمیشہ کے لئے آزادانہ، شفاف اور قابل اعتماد انتخابی نظام رائج ہو۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ریاست مدینہ کا تصور اور خواب ہر پاکستانی بچے کے دل میں بستا ہے، یہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ دینے کی بات بھی کرتے ہیں اور اس کی مخالفت بھی کرتے ہیں، سمندر پار پاکستانیوں کے ڈالر تو انہیں قبول ہیں لیکن ووٹ کا حق دینا اپوزیشن کو منظور نہیں، ہم اوورسیز پاکستانیوں کو ملکی پالیسیوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں، ایوان اگر یہ بل منظور کرلیتا ہے تو انہیں ووٹ کا حق دیا جائے گا۔











