حیدرآباد، 11 دسمبر (اے پی پی): سندھ زرعی یونیورسٹی میں “سندھ کے نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل کیریئر کے مواقع اور موثر مواصلاتی ٹولز کی تلاش” کے زیرعنوان منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین اور اسکالرز نے کہا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کے 60 لاکھ طلبہ دنیا کی کئی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ جس میں سندھ کے نوجوانوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ہم سندھ کے 60 ہزار طلباء کو یونیورسٹیوں میں بھیجنے کا خواب لیکر نکلے ہیں۔
سندھ حکومت کے محکمہ کھیل اور نوجوانوں کے معاملات کے ذیلی ادارے انسٹی ٹیوٹ فار سوشل چینج (آئی ایس سی) کے تعاون سے سندھ زرعی یونیورسٹی کی کراپ پروٹیکشن فیکلٹی کے زیر میزبانی منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیکلٹی ڈین ڈاکٹرجان محمد مری نے کہا کہ سندھ زرعی یونیورسٹی دنیا کی دیگر یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنے گریجویٹس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے،لیکن ساتھ ساتھ عالمی معیار کے مطابق زرعی یونیورسٹیوں کے تدریسی اور تحقیقی معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سیمینار سے سندھ کے نوجوانوں کو ترقی یافتہ ممالک کی جامعات میں اسکالرشپ حاصل کرنے میں مدد ملے گی، آئی ایس سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عبدالجبار بھٹی نے کہا کہ دنیا بھر کی مختلف یونیورسٹیوں میں اسکالرشپ کے ہزاروں مواقع موجود ہیں، صرف چین نے دنیا بھر کے ممالک سے 5 لاکھ طلباء کو مواقع دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سندھ کے نوجوانوں کے لیے دنیا بھر کی جامعات میں مواقع تلاش کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ وہ بھی اسکالرشپ حاصل کریں اور عالمی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء سندھ میں بزنس اکانومی کو سہارا دیں۔
سندھ یونیورسٹی جامشورو کے اسکالر ڈاکٹر شاھمراد چانڈیو نے کہا کہ چین، ملائیشیا، آسٹریلیا، جرمنی، امریکا، برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیوں میں مختلف ممالک کے طلباء میڈیکل، انجینئرنگ، زراعت، آئی ٹی، بزنس ایڈمنسٹریشن سمیت مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس لیے اگر سندھ کے نوجوانوں کی رہنمائی اور تربیت کی جائے تو سندھ کے نوجوان اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر یعقوب کوندھر، ڈاکٹر بھائی خان سولنگی، ڈاکٹر منظور ابڑو، ڈاکٹر غلام مجتبیٰ خشک اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ سیمینار میں اساتذہ اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔











