ن لیگ کا پارٹی فنڈ اکائونٹ کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے ؛ چوہدری فواد حسین

38

لاہور ،12دسمبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے اتوار کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  کہا ہے  کہ الیکشن کمیشن پہلے مرحلے میں بڑی سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کے معاملات عوام کے سامنے رکھے، ن لیگ اور پی پی پی کے پاس فنڈنگ کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں، ن لیگ کا 2013ءسے 2015ءتک جبکہ پیپلز پارٹی کا 2009ءسے 2012ءتک فنڈنگ کا ریکارڈ ہی دستیاب نہیں، نواز شریف نے 2013ءمیں 10 کروڑ روپے ن لیگ کو عطیہ کئے، اس رقم میں سے 4 کروڑ 50 لاکھ روپے ن لیگ نے نواز شریف کو واپس بھجوا دیئے، بنیادی طور پر ن لیگ کے اکائونٹ کو کالا دھن سفید کرنے کے لئے استعمال کیا گیا، ٹی ایل پی اور جے یو آئی کی فنڈنگ کے حوالے سے بھی اعتراضات موجود ہیں، پیپلز پارٹی کا الیکشن لڑنا تو دور کی بات ہے پنجاب میں ان کا ٹکٹ لینے کے لئے بھی کوئی تیار نہیں۔

  وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم الیکشن  کمیشن کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں، الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کے کیسز میں پیشرفت اس طرح نہیں ہو رہی جس طرح ہونی چاہئے، الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ سیاسی پارٹیوں کے فنڈنگ کے معاملات اوپن ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کو اس وقت فروغ ملے گا جب سیاسی جماعتوں کا اپنا سٹرکچر ہوگا اور ان کی فنڈنگ کا نظام اوپن ہوگا۔

 وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بہت سی شدت پسند جماعتیں بھی الیکشن کمیشن کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں جن کی فنڈنگ کے ذرائع موجود ہی نہیں۔ انہوں  نے کہا کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے آڈٹ اکائونٹس الیکشن کمیشن کے پاس موجود ہیں، انہیں عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ ن لیگ کے نام پر ایف سیون تھری میں موجود گھر کی قیمت دو کروڑ 70 لاکھ روپے بتائی گئی ہے، ایف سیون تھری میں گھروں کی قیمت سے جو لوگ آگاہ ہیں انہیں پتہ ہے کہ اس قیمت میں فٹ پاتھ بھی نہ ملے۔ اس گھر کی قیمت کے حوالے سے بھی کوئی ثبوت نہیں موجود نہیں کہ یہ رقم کہاں سے آئی۔ انہوں نے کہا کہ 2013ءمیں ن لیگ کے اکائونٹ میں 14 کروڑ 50 لاکھ اور 8 کروڑ67 لاکھ کی رقوم آئیں، ان رقوم کا بھی نہیں پتہ کہ نواز شریف کو یہ کس نے بھیجیں۔

 چوہدری فواد حسین نے کہا کہ عمران خان نے پارٹی میں جو نظام قائم کیا اس میں اوورسیز پاکستانیوں نے ہمیں رقوم بھیجیں، ان میں ایسی رقوم بھی شامل ہیں جو ایک ڈالر سے دس ڈالر کے درمیان ہیں۔ ن لیگ کے پاس اپنے کسی ڈونر کا ریکارڈ موجود نہیں ہے، ن لیگ کے پاس اسلام آباد میں 20۔ایچ، گلی نمبر 10 ایف ایٹ تھری میں اپنے دفتر کے بارے میں بھی ریکارڈ موجود نہیں کہ اس دفتر کا کرایہ کون ادا کر رہا ہے۔ اس دفتر کے بارے میں ن لیگ نے الیکشن کمیشن کو بتایا ہے کہ یہ دفتر ان کا ہے لیکن کیسے چل رہا ہے اس کا کوئی پتہ نہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پنجاب میں ن لیگ کا 2013ءسے 2015ءتک کوئی آڈٹ ریکارڈ موجود نہیں، 2011ءسے پونے دو کروڑ روپے کے قریب رقم ن لیگ کے اکائونٹ میں موجود ہے، یہ معلوم نہیں کہ یہ رقم کس نے جمع کرائی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے 2013ءمیں 10 کروڑ روپے ن لیگ کو عطیہ کئے، اس رقم میں سے 4 کروڑ 50 لاکھ روپے ن لیگ نے نواز شریف کو واپس بھجوا دیئے، بنیادی طور پر ن لیگ کے اکائونٹ کو کالا دھن سفید کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں قائم ایک کمپنی ن لیگ کے لئے پیسہ جمع کر رہی ہے اس کا بھی حساب کتاب موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا 2009ءسے 2012ءتک فنڈنگ کا ریکارڈ ہی دستیاب نہیں، 2013ءمیں ایک سورس اکائونٹ اوپن کیا اور اس میں 42 کروڑ روپے جمع کروائے گئے لیکن الیکشن کمیشن کو نہیں بتایا گیا کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا۔