افغانستان کی کمزور آبادی کو انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اور عالمی برادری کی جانب سے معاشی شمولیت کی اشد ضرورت ہے، وزیراعظم عمران خان کی سیکرٹری جنرل او آئی سی سے ملاقات میں گفتگو

22

اسلام آباد۔19دسمبر  (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کی کمزور آبادی کو انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اور عالمی برادری کی جانب سے معاشی شمولیت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزراء خارجہ کونسل کے 17 ویں غیرمعمولی اجلاس کے موقع پر سیکرٹری جنرل او آئی سی حسین ابراہیم طحٰہ سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اتوار کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سیکرٹری جنرل او آئی سی کے پہلے دورہ پاکستان پر ان کا خیرمقدم کیا اور او آئی سی وزراء خارجہ کونسل کے غیرمعمولی اجلاس میں ان کی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے افغانستان میں امن و استحکام کے لیے او آئی سی کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے افغانستان کی کمزور آبادی کو انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اور عالمی برادری کی جانب سے معاشی مذاکرات کی ضرورت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ وزیراعظم نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو درپیش اسلامو فوبیا کے چیلنج کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ او آئی سی دنیا بھر کے لوگوں کو حضرت محمدۖ ﷺسے مسلمانوں کی محبت اور عقیدت مندی سے آگاہی کے لیے قیادت کرے۔ وزیراعظم نے بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش ظاہر کی۔ او آئی سی کی جانب سے کشمیریوں کی بھرپور حمایت کو سراہتے ہوئے انہوں نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سے درخواست کی کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ جموں و کشمیر کے حل کی حمایت جاری رکھیں۔ سیکرٹری جنرل او آئی سی نے افغان عوام کو درپیش انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں او آئی سی وزراء خارجہ کونسل کا غیرمعمولی اجلاس بلانے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان میں اپنے قیام کے دوران بھرپور میزبانی پر پاکستان اور اس کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا۔