اسلام آباد،24دسمبر(اے پی پی):بحیثیت ایک لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح کی قائدانہ صلاحیتوں کی دنیا معترف ہے لیکن مسلمانوں کے اس عظیم لیڈر کی نفیس شخصیت اور پہناوا بھی اپنے اندر ایک سحر رکھتا ہے۔ مورخین کے لیے جہاں قائد کی سیاسی بصیرت مثالی رہی وہیں آپ کی خوش لباسی کا بھی ہمیشہ اعتراف کیا گیا۔
کراچی میں قیام کے دوران انگریزوں سے میل جول کی بنا پر قائد اعظم شروع ہی سے انگریزی لباس زیبِ تن کرتے رہے۔ بعد ازاں لندن میں قیام کے دوران انہیں کوٹ، پتلون اور ٹائی کا مستقل استعمال کرنا پڑا۔ وکالت کے پیشے سے وابستہ ہونے کے بعد بھی قائدِ اعظم انگریزی لباس ہی زیب تن فرماتے تھے۔
قائداعظم نے تحریکِ پاکستان کے دوران جناح کیپ اور شیروانی کا استعمال شروع کیا۔1937 کے بعد قائد اعظم نے مسلم لیگ کے اجلاسوں اور عوامی اجتماعات میں اچکن اور تنگ پاجامہ پہن کر شرکت کرنا شروع کی۔
اگست 1947ء کے بعد بانی پاکستان نے ہمیشہ تقریبات میں شیروانی، شلوار اور ”کارکل“ ٹوپی پہن کر شرکت کی۔ ”کارکل“ ٹوپی آپ کی شخصیت پر ایسی جچی کے آپ کے نام سے ہی منسوب ہو کر رہ گئی اور جناح کیپ کہلائی۔ اس وقت سے لے کر آج تک جناح کیپ اور شیروانی ہماری قومی پہچان بن گئی۔
قائد اعظم نے جو لباس بھی زیب تن کیاوہ ان کی شخصیت کی سحر انگیزی اور نفاست میں اضافے کا باعث بنا۔ قائدِ اعظم کے پہناوے کو آج بھی ستائش کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
سورس: وی این ایس، اسلام آباد











