جمہوریت کے علمبردار اور چیمپیئن کہلانے والوں کو حکومت کی جمہوری مدت کے مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہئے،پاک افغان سرحد پر  باڑ دونوں ممالک کے فائدے میں ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی  ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے ہمراہ پریس کانفرنس

92

ملتان۔7جنوری  (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جو بھی حکومت  کےخلاف تحریک چلانا چاہتا ہے ضرور چلائے ہمیں کوئی پریشانی نہیں،قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تحریک چلانا اپوزیشن کا حق ہے، پاکستان میں جمہوریت کے علمبردار اور چیمپیئن کہلانے والوں کو حکومت کی جمہوری مدت کے مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہئے، پاکستان میں 2002ء سے لے کر اب تک انتقال اقتدار کی اچھی روایت چل رہی ہے، ماضی میں پی پی اور ن لیگ دونوں نے اپنے اقتدار کی جمہوری مدت پوری کی، اسی طرح 2023ء میں تحریک انصاف کی جمہوری حکومت کی مدت پوری ہونے پر پُر امن طریقے سے انتقال اقتدار مکمل ہونا چاہئے، مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت اور نہتے کشمیریوں پر مظالم کو مد نظر رکھتے ہوئے بھارت کو او آئی سی کے مارچ میں ہونے والے اجلاس میں دعوت دینا نہیں بنتا، افغانستان کے لوگوں کو محفوظ کرنے کے لئے پاکستان نے مختلف غیر ملکی فورم پر آواز اٹھائی،ہماری کوششوں سے عرصہ دراز کے بعد افغانستان کے معاملے پر مسلم امہ کو یکجا کیا،ہم او آئی سی کے تعاون سے افغانستان میں بہت بڑے انسانی بحران سے نمٹنے کیلئے ایک علیحدہ ٹرسٹ بنانے میں کامیاب ہوچکے ہیں، او آئی سی کے اجلاس کے بعد سلامتی کونسل کا اجلاس بھی ہوا جس میں امریکہ کی جانب سے افغانستان میں امن کے لئے قرارداد پیش کی گئی اور جو پابندیاں لگائی گئی تھیں ان میں نرمی کا اعلان کیا گیا، پاک ۔افغانستان بارڈر پر باڑ  لگانے میں دقتیں ہوئیں ،مشکلات بھی پیش آئیں ،94فیصد کام مکمل ہو چکا ہے لیکن یہ باڑ دونوں ممالک کے فائدے میں ہے،کچھ عناصر باڑ کاٹ کرپاکستان کی سرزمین کو شر پسندی و رخنہ اندازی پھیلانے کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں ،ہم سفارتی ذرائع کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کریں گے اور ایسے عناصر کے عزائم کو خاک میں ملائیں گے، افغانستان کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے (Immediate Neighbours of Afgahnistan)بھی قائم کر چکے ہیں جس کے باقاعدہ اجلاس ہو چکے ہیں اور اس کے بھی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ملتان میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ  ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیر مملکت برائے سیاسی امو ر ملک عامر ڈوگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ جہانگیر ترین کے جہاز کا رخ موڑنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس کا جہاز ہے اور اس نے جس طرف منہ کرنا ہے وہی جانتا ہے میرے پاس تو کوئی جہاز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو براہ راست ریلیف دینے کیلئے بلاامتیاز صحت کارڈ متعارف کرایا گیا ہے۔صحت کارڈ کے ذریعے 10 لاکھ روپے تک کا علاج و معالجہ بلامعاوضہ فراہم کیا جائے گا۔احساس راشن اور احساس کفالت پروگرام کامیابی کیساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ احساس راشن پروگرام مہنگائی کو کم کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ڈاکٹر ثانیہ نشر کامیابی سے اس پروگرام کو چلا رہی ہیں۔ا حساس کفالت پروگرام ملک کی 46 فیصد آبادی کو کوور کر رہا ہے۔ تمام مستحق افراد کو چاہیے کہ اپنی اپنی رجسٹریشن کروائیں۔انہوں نے کہاکہ ملتان میں ڈی سی سی  کامیابی سے چل رہی ہے جس میں ضلع کی ترقی کیلئے ٹھوس فیصلے کئے جاتے ہیں۔ ضلع ملتان کی ڈی سی سی کی پورے پنجاب میں مثال دی جاتی ہے۔ ہمارے منصوبوں پر 50 فیصد بجٹ خرچ ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملتان کے داخلی و خارجی راستوں کو خوبصورت بنایا جا رہاہے‘ داخلی راستوں پر گیٹ لگائے گئے ہیں۔ ملتان کی شاہراہوں کو کشادہ کیا جا رہاہے۔