ملتان،13جنوری(اے پی پی): وزیراعلیٰ پنجاب نے ملتان ڈویژن میں انتظامیہ کو منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کا خصوصی ٹاسک دے دیا ہے۔ کمشنر ڈاکٹر ارشاد احمد نے مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے نشتر ہسپتال کا ہنگامی دورہ کیا۔ انہوں نے کارڈیالوجی توسیعی بلاک کی تکمیل میں تاخیر پر کنٹریکٹر کی سرزنش کی اور کام میں تاخیری حربے استعمال کرنے والے کنٹریکٹر کو بلیک لسٹ کرنے کی وارننگ دی۔انہوں نے ایس ای بلڈنگ کو کارڈیالوجی توسیعی بلاک میں کیمپ آفس بنانے کی ہدایت بھی کی۔
ڈاکٹر ارشاد احمد نے کہا کہ شہر اولیاء میں صحت کے میگا منصوبوں کی جلد تکمیل بارے کوشاں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عوام کو صحت کی سہولیات کی سہل فراہمی کیلئے عملی اقدامات کیے جارہے۔
کمشنر نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بہتری پر وزیراعلی پنجاب کی خاص توجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں کی تکمیل میں معیار پر سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ مقرر وقت میں سکیموں کی تکمیل سے عوام کے ٹیکس کا پیسہ بچایا جائے۔
ڈاکٹر ارشاد احمد نے کہا کہ کمشنر آفس کی جانب سے منصوبوں کی تکمیل کیلئے مکمل معاونت فراہم کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا تمام منصوبوں میں خطہ کی ثقافت کو اجاگر کیا جائے اور سکیموں کی تکمیل کیساتھ ہی مشینوں کے ٹینڈر کھولے جائیں اور عوامی مفاد کیلئے عمارت کی تعمیر مکمل ہوتے ہی مشینری انسٹال کی جائے۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عامر کریم نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر منصوبوں کی انسپکشن کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ منصوبوں کی تکمیل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے فوری آگاہ کریں اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سکیموں کی تکمیل مقررہ وقت میں یقینی بنائی جائے۔
اس موقع پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ 3 ارب روپے سے زائد لاگت سے200 بیڈز پر مشتمل مدر اینڈ چائلڈ کئیر ہسپتال کو اپریل 2023 تک مکمل کرلیا جائے گا ، عمارت کی پائلنگ کا کام شروع کردیا گیا ہے، کارڈیالوجی ہسپتال توسیعی بلاک میں او پی ڈی اپریل تک فعال کردی جائے گی، 3 ارب روپے کی لاگت سے کارڈیالوجی ہسپتال توسیعی منصوبہ تکمیل کے مراحل میں ہے ، توسیعی بلاک کی تعمیر سے ہسپتال میں 208 بیڈز کا اضافہ ہوگا۔ پرانے بلاک میں 279 بیڈز فعال،ڈاکٹروں، نرسوں کا رہائشی بلاک بی زیر تعمیر ہے۔ نشتر2 کی بیسمنٹ،گراؤنڈ فلور،فرسٹ سیکنڈ فلور کا عمارتی کام مکمل ہوچکا ہے۔
چانسلر نشتر یونیورسٹی ڈاکٹر رانا الطاف، ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ عرفان انجم بھی اس موقع پر موجود تھے۔











