ملتان،26جنوری (اے پی پی):گورنرپنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی)کے حوالے سے کاروباری برادری کی پریشانی سے آگاہ ہیں اور جلد بزنس کمیونٹی کو خوشخبری سننے کوملے گی، صوبہ پنجاب میں دوسرے صوبوں کے مقابلے میں گیس کی قیمت کادوگنا ہونا ناانصافی ہے، یورپی یونین کی اصل شرائط پوری کریں تو آئندہ دس سال کے لیے جی ایس پی پلس سے مستفید ہوسکتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے ایوان تجارت وصنعت ملتان میں تاجروں اورصنعتکاروں سے خطاب کے دوران کیا۔ گورنر پنجاب نے کہاکہ میں 30برسوں سے سرائیکی صوبے کا حامی ہوں اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بھی اس حوالے سے کافی متحرک ہیں اوراپنابھرپور کردارادا کررہے ہیں، الگ صوبے کے حوالے سے تمام سیاستدان ایک پیج پر ہیں اوراختیارات کی منتقلی سب سے اہم بات ہے جس پر متفق ہوں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت مظفرگڑھ میں 400ایکڑ پر انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کررہی ہے جس سے خطے کی کاروباری برادری کو فائدے حاصل ہوں گے، کرونا کے بعد کاروباری برادری نے جس طرح حالات کامقابلہ کیا اور ایکسپورٹ پر توجہ دی وہ قابل تعریف ہے، بزنس کمیونٹی کی اسی محنت سے ملکی برآمدات 22ارب ڈالر سے بڑھ کر 30ارب ڈالر تک پہنچیں اور اوورسیز پاکستانیوں نے بھی ترسیلات زر 22ارب ڈالر سے بڑھا کر 30ارب ڈالر تک پہنچادیں، 16ارب ڈالر سے معیشت کوبہت سہارا ملا،حکومت نے ٹیکسٹائل اور ایکسپورٹ انڈسٹری کوبہت مراعات دی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں گورنرپنجاب چودھری محمد سرور نے کہاکہ دیگرصوبوں کے مقابلہ میں صوبہ پنجاب میں گیس کی قیمت کادوگنا ہونا افسوسناک اور ناانصافی ہے جس سے صوبہ کی کاروباری برادری کی پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے۔ اس کی مثال دنیا بھر میں نہیں ملتی۔ صوبہ پنجاب میں گیس کی قیمتوں میں کمی کےلئے لائحہ عمل ترتیب دیں گے تاکہ اس علاقے کے کاروباری افراد کو سہولت ملے۔ انہوں نے جی ایس پی پلس کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ سال2013-14ءمیں اس پرکام شروع کیا جو کہ بہت بڑا چیلنج تھا، 11ممبران پاکستان کو جی ایس پی پلس کادرجہ دینے کے خلاف تھے ،لابنگ کے ذریعے ان ممبران کی اکثریت کو حامی بنوایا، افغانستان سمیت دیگر ایشوز پر ایک بارپھرجی ایس پی پلس کادرجہ خطرہ سے دوچار ہوا مگر اب 2023ءتک پاکستان اس سے استفادہ کرسکتا ہے اورفکر کی ضرورت نہیں،اگرپاکستان حقیقی ڈیمانڈ پوری کرے تو جی ایس پی پلس کا سٹیٹس آئندہ دس سالوں تک حل کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس حق میں نہیں کہ فیکٹری مالک کی کسی غلطی پرفیکٹری سیل کردی جائے ،پاکستان کے تاجر کو 34محکموں سے مقابلہ کرناپڑتا ہے اور حالیہ دنوں میں بزنس کمیونٹی جنرل سیلز ٹیکس میں اضافہ سے پریشان ہے، اس حوالے سے وزیراعظم پاکستان سے رابطے میں ہیں اور جلد خوشخبری سنائیں گے۔
گورنر پنجاب نے کہاکہ حکومت نے 60ہزار طلباءکو سکالرشپ جاری کیے اس کے ساتھ ساتھ ہیلتھ کارڈ کابھی اجراءکیا ۔کسانوں، کاشتکاروں کے لیے بھی اقدامات عمل میں لائے جوشوگر ملز 140روپے من میں گنا خرید نہیں کررہی تھیں اب وہ گنا 200سے 300روپے من میں بک رہاہے۔
اس موقع پرصوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام میں رکاوٹیں تھیں، قومی اسمبلی، صوبائی اور سینیٹ میں دوتہائی اکثریت کی ضرورت تھی جوتحریک انصاف کے پاس نہیں تھی جس سے یہ معاملہ لٹک گیا، اس کاحل یہ نکالا کہ سب سیکرٹریٹ قائم کیااور اب اس کو جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں تبدیل کردیا ہے، رولز آف بزنس فائنل ہوگئے ہیں اور اس حوالے سے محکموں کوبھی بریفنگ دے دی گئی ہے۔ گریڈ 1سے گریڈ 18تک کے اختیارات منتقل کردیئے گئے ہیں اور گریڈ 19اوراس سے اوپر کے اختیارات چیف سیکرٹری اور چیف منسٹر کو حاصل ہوں گے، تحریک انصاف کی حکومت نے اس حوالے سے بہت سی رکاوٹیں ختم کردی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ حکومت کو واضح کہہ دیاتھا کہ اگر جنوبی پنجاب صوبہ قائم نہیں ہوتا تو حکومت سے الگ ہوجائیں گے اور اس پر کسی قسم کاسمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس موقف پر حکومت نے کام تیزی سے شروع کیا، ملتان اوربہاولپور صوبہ کافیصلہ ن لیگ کی حکومت نے کیا اور اس معاملے کو الجھایا،اب موجودہ یا اگلی اسمبلی میں صوبے کا بل پاس ہوگا اورجوصوبے کے حق میں نہیں سب بے نقاب ہوں گے۔
قبل ازیں ایوان تجارت وصنعت ملتان کے صدرخواجہ محمد حسین نے کہاکہ موجودہ حکومت تمام شعبہ جات کی ترقی کومدنظر رکھتے ہوئے ملک کی معیشت کومضبوط کرنے میں کوشاں ہے،ملتان میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی بہتر سیوریج سسٹم کی فراہمی ہسپتالوں میں جدید طبی سہولیات کی دستیابی، سڑکوں کی کشادگی ،نئے پارکوں کی تعمیر اور پرانے پارکوں کی بہتری، سرکاری سکولوں کی اپ گریڈیشن، سفاری پارک اور چڑیا گھر جیسے پراجیکٹس مکمل کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب کے دیگرپراجیکٹس جن میں گیس سپلائی لائن کی بہتری اور جمخانہ کلب شامل ہیں،کو جلد ازجلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ملتان میں ایکسپو سنٹر اور ایکسپورٹ ڈسپلے سنٹر قائم کیا جائے۔ ملتان کوصنعتی وتجارتی طورپر مضبوط کرنے کے لیے ملتان ایئرپورٹ پر کولڈ سٹوریج قائم کیا جائے۔ ملتان میں دونئے انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کیے جائیں اور موجودہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں”سپیشل اکنامک زونز” کا قیام بھی عمل میں لایا جائے۔
ایوان تجارت وصنعت ملتان و ڈی جی خازن کے سابق صدر خواجہ محمد جلال الدین رومی نے کہاکہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ کامسئلہ اپنی جگہ اہم پرگزشتہ چار ماہ سے خطہ میں گیس دستیاب نہیں جس سے انڈسٹری کو شدید مسائل کاسامنا ہے اور خدشہ ہے کہ صورتحال برقراررہی تو انڈسٹری بند ہونا شروع ہوجائے گی۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام پر اربوں روپے کے اخراجات آئے پر اختیارات کی عدم موجودگی سے سیکرٹریٹ کے اثر ثمرات تاحال حاصل نہیں ہوسکے۔حکومت ملتان اور بہاولپور میں الگ الگ سیکرٹریٹ کی بجائے لودھراں یا دوسرے کسی مقام پر ایک سیکرٹریٹ قائم کرے جس سے اس خطے کی عوام کوفائدہ حاصل ہو ۔ صوبہ کے قیام سے تحریک انصاف کی حکومت کو اس علاقے سے زیادہ ووٹ ملیں گے اوراس خطے کی عوام کی ہمدردیاں بھی تحریک انصاف کے ساتھ ہوں گی۔











