سکھر۔04فروری (اے پی پی ) سندھ میں نام نہاد فرسودہ رسم غیرت کے نام پر خواتین کو قتل کرنے کی شرح میں تشویش ناک اضافہ ہونے لگا ، ایک سال کے دوران 128 خواتین کو قتل کیا گیا۔ خواتین کے حقوق اور کاروکاری کی روک تھام کیلئے کام کرنے والی سماجی تنظیم سندھ سہائی آرگنائزیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر عائشہ حسن دھاریجو نے سکھر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رپورٹ جاری کی ہے،انہوں نے کہا کہ سندھ بھر میں 2021 میں غیرت کے نام پر قتل کسیز میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
گزشتہ سال 2021 کے دوران سندھ بھر میں کاروکاری کی فرسودہ رسم کے نام پر 128 خواتین اور 48 مردوں سمیت 176 افراد کو قتل کیا گیا۔غیرے کے نام پرسب سے زیادہ 27 کیس ضلع کشمور میں رپورٹ ہوئے،23 خواتین،4 مرد سمیت 27 افراد کو قتل کیا گیا۔جیکب آباد ضلع میں 14 خواتین،12 مرد سمیت 26 افراد کاروکاری کے نام پر قتل کیا گیا۔ ڈاکٹر عائشہ حسن دھاریجو کے مطابق ضلع شکارپور میں کاروکاری کے الزام میں 18 عورتیں،5 مردوں سمیت 23 افراد کو موت کی نیند سلادیا گیا۔غیرت کے نام پر ضلع گھوٹکی میں 14 خواتین،3 مردوں سمیت 17 افراد کو قتل کیا گیا۔سندھ کے دیگر مختلف اضلاع میں 83 خواتین اور مردوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر عائشہ حسن دھاریجو کے مطابق کاروکاری کی واقعات کی شرح زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ صرف 70 فیصد کیس رجسٹرڈ ہوئے ہیں،کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوئی۔ کاروکاری کے بیشتر مقدمات سرکاری مدعیت میں درج ہوئے ،ایک بھی کیس میں ملزمان کو سزا نہیں ہوئی ہے، چیئرپرسن ڈاکٹر عائشہ حسن دھاریجو کا مزید کہنا تھا کہ پولیس انویسٹیگیشن کمزور ہونے کے باعث ملزمان سزا سے بچ جاتے ہیں،متاثرہ خاندان دباﺅ میں آکر ملزمان کے ساتھ سمجھوتہ کرلیتے ہیں،پولیس کیس کو خراب کرکے خارج کردیتی ہے۔صوبے بھر میں خواتین پولیس افسران کی کمی ہے،جس کے باعث خواتین کو تھانہ کچہری میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ مر?زی اور صوبائی حکومتوں کو اس معاملے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔











