وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس،کئی معاہدوں اور تعیناتیوں  کی منظوری سمیت اہم فیصلے

18

اسلام آباد۔15فروری  (اے پی پی):وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کو یہاں منعقد ہوا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق کابینہ نے وفاقی حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کے مابین اہم ملکی امور پر مشاورت کرنے کے لئے فورم قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس فورم کی موجودگی میں اہم انتظامی امور میں غیر ضروری التوا کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ اہم زیر التوا امور میں ٹیکس کے مقدمات، سرمایہ کاری، انتظامی تعیناتیوں پر سٹے آرڈر جیسے اہم مقدمات شامل ہیں جن کی وجہ سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس وقت ایف بی آر کے 300 ارب روپے اور ریگولیٹری اتھارٹیز کے 250 ارب روپے کے مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر التوا ہیں، اگر حکم امتناع کی مدت متعین کر دی جائے تو ملک و قوم کا فائدہ ہو گا۔ کابینہ نے اہم شخصیات بالخصوص خواتین پر الزامات اور ان کے خلاف سوشل میڈیا پر گھٹیا الزامات لگانے کے سلسلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس کے تدارک کے لئے قانون سازی پر زور دیا۔ کابینہ نے وزارت کامرس کی سفارش پر اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے بورڈآف ڈائریکٹرزکی تنظیم نو کرنے کی منظوری دی۔اس منظوری کے بعد بورڈ میں چیئرمین اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن، وزارت کامرس، وزارت صحت اور وزارت خزانہ کے نمائندگان بطورسرکاری ڈائریکٹرز شامل ہوں گے۔اس کے علاوہاقتصادیات کے  معروف  ماہرین  ہمایوں بشیر، محترمہ پورو  سدوا، معین فودا اور انور منصور خان بطور خود مختار ڈائریکٹرز شامل ہوں گے۔ کابینہ نے وزارت کامرس کی سفارش پر بین الاقوامی کمپنی Peugeot کو پاکستان میں گاڑیوں کا کاروبار شروع کرنے کی خاطر اس کمپنی کی گاڑیاں ٹیسٹنگ کے لئے درآمد کرنے کی اجازت دی۔  کابینہ نے وزارت کامرس کی سفارش پر میسرز ٹرائی کام ونڈ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ  کو جھمپیرضلع ٹھٹھہ میں 50  میگا واٹ ونڈ ٹربائن منصوبہ لگانے کے لئے2  بڑی کرینیں درآمد کرنے پر کسٹم ڈیوٹی میں ایک مرتبہ استثنیٰ کی منظوری دی۔ کابینہ نے وزارت کامرس کی سفارش پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 34,500 میٹرک ٹن دال مونگ ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت افغانستان برآمد کرنے کی اجازت دی۔ کابینہ نے سعودی عرب کے ساتھ 821.80 ملین ڈالرز قرضوں کی مؤخر ادائیگی کے معاہدے کی منظوری دی۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ2027ء تک مجموعی طور پر تقریباً 4 ارب ڈالر کی ادائیگیاں مؤخر ہو جائیں گی جو کہ ملکی ترقی کے لئے استعمال کی جا سکیں گی۔ کابینہ نے وزارت خزانہ کی سفارش پر ملک کے معاشی استحکام کے لئے جاری کردہ بین الاقوامی بانڈز کی مدت میں توسیع کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے ہدایت دی کے ان بانڈز کو انتظامی اور ادارہ جاتی تحفظ فراہم کرنے  کے حوالے سے وزارت خزانہ اور وزارت قانون مشاورت کریں۔ کابینہ نے ڈاکٹر نوید حامد کو مزید 3 سال کے لئے مانیٹری پالیسی کمیٹی پر بطور ممبر تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے سید جاوید حسن کو اچھی کارکردگی کی بنیاد پر مزید 3 سال کے لئے چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ نیوٹیک تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل کلائوڈ پالیسی کی منظوری دی۔ یہ پالیسی سرکاری اداروں میں ڈیجیٹل ڈیٹا کے بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک جگہ پر تحفظ فراہم کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ اس پالیسی  سےملک میں کلائوڈ کمپیوٹنگ کے لئے افرادی قوت کی تربیت، اہم پالیسی سازی کے لئے ڈیٹا کا بروقت استعمال، وسائل کا موثر استعمال اور ڈیجیٹل سیکٹر میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے میں مدد ملے گی۔ کابینہ نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سفارش پر پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل 2022ء کے مسودے کی اصولی منظوری دی۔ اس قانون کی بدولت ذاتی معلومات تک رسائی، استعمال، درستگی اور غلط استعمال کو روکنے کے لئے شہریوں کو تحفظ حاصل ہو گا۔ ڈیٹا پروٹیکشن کے بین الاقوامی ضابطہ کار اور اصول اس بل کا حصہ ہوں گے۔ یہ مسودہ کمیٹی برائے قانون کو بھجوایا جائے گا۔ وزارت داخلہ نے پاکستان اور برطانیہ کے مابین شہریوں کی واپسی کے حوالہ سے معاہدے کے بارے رپورٹ پیش کی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اس مقصد کے لئے وزراء برائے داخلہ، خارجہ، انسانی حقوق اور مشیر برائے احتساب پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ اس کمیٹی نے سفارشات مرتب کر لی ہیں جن کو وزارت خارجہ کی حتمی مشاورت کے بعد حکومت برطانیہ کو بھجوائی جائیں گی۔ کابینہ نے وزارت قانون کی سفارش پر لاء اینڈ جسٹس کمیشن میں تعیناتیوں کی منظوری دی۔ کمیشن میں جسٹس (ر) میاں محمد اجمل، جسٹس (ر) فیصل عرب، جسٹس (ر) محمد سیر علی اور سینئر ایڈووکیٹ سید ایاز ظہور تعینات کرنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے فیڈرل  سروسز  ٹربیونل کیمپ  آفس کراچی کی نئی عمارت کی تعمیر کے لئے کراچی صدر میں واقع پاکستان سیکرٹریٹ آرٹلری میدان میں زمین الاٹ کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے وزارت صحت کی سفارش پر Remdesivir 100 mg کی ریٹیل پرائس 3967.34 روپے سے 2308.63 روپے کم کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے وزارت قومی صحت کی سفارش پر پاکستان میں ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹ صنعت کی ترقی اور فروغ کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے کی منظوری دی۔ ان اقدامات  سے ادویہ سازی سیکٹر میں بین الاقوامی معیار سے مطابقت، تحقیق، قیمتوں میں کمی اور دستیابی ممکن بنانے میں مدد ملے گی۔ کابینہ نے سمندر پار پاکستانیوں کی سہولت کے لئے خصوصی عدالتوں کے قیام کی اصولی منظوری دی اور قوانین بنانے کی ہدایت دی۔ ان قوانین اور عدالتوں کے قیام سے سمندرپار پاکستانیوں کے ملکیتی مقدمات جلد نمٹانے  میں مدد ملے گی۔ کابینہ نے باسکا بلاک میں چائنہ زنہوا آئل کے ورکنگ انٹرسٹ اور آپریٹرشپ  کا 33.5 فیصد حصہ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے بریگیڈیئر (ر) توفیق احمد کو ایم پی۔1 سکیل میں ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الیکٹرانکس کے عہدے پر تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ کے سامنے قومی اقتصادی کونسل کی سالانہ رپورٹ برائے مالی سال 2020-21 پیش کی گئی۔ کابینہ نے کمیٹی برائے ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹک کے 27 جنوری 2022 کو منعقدہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ ان فیصلوں میں کراچی پورٹ ٹرسٹ پیپری ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور، وزارت ریلویز، پی آئی بی ٹی ٹرمینل سے پاکستان ریلوے نیٹ ورک تک نئے ریل لنک شامل ہیں۔ کابینہ نے ادارہ جاتی اصلاحات کمیٹی کے 5 اور 12 جنوری 2022کو منعقدہ اجلاسوں میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ ان فیصلوں میں انڈسٹری فیسیلی ٹیشن سنٹر کا وزارت صنعت و پیداوار میں پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ساتھ انضمام شامل ہے۔ کابینہ نے ادارہ جاتی اصلاحات کمیٹی کے 26جنوری 2022ء کو منعقدہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ ان فیصلوں میں وزارت قومی صحت خدمات کے ادارے نیشنل ہیلتھ انفارمیشن ریسورس سنٹر کی تحلیل شامل ہے۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 9 فروری 2022ء کو منعقدہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی جس میں پیپرا کے ای۔پروکیورمنٹ منصوبہ کیلئے 555 ملین روپے کے فنڈز کا اجرا، پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے پروگرام کے تحت مالی سال 2021-22ء کے دوران 8.190 ارب روپے کے فنڈز کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری، مالی سال 2021-22ء کے دوران کوویڈ سے متعلقہ پاک فوج کی ضروریات  کو پورا کرنے کیلئے سپلیمنٹری گرانٹ، ٹیکسٹائلز اینڈ اپیرل پالیسی 2020-25ء کے حوالہ سے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کیلئے عملدرآمد رپورٹ، سیالکوٹ (سمبڑیال)۔ کھاریاں  موٹروے منصوبہ کی بی او ٹی کی بنیاد پر تعمیر کیلئے 6944 ملین روپے کی ساورن گارنٹی یا ایس بی ایل سی کے اجرا، سینڈک کاپر گولڈ پراجیکٹ کیلئے سینڈک میٹلز لمیٹڈ اور ایم سی سی چائنہ کے مابین لیز کے معاہدہ کی توسیع، کے۔الیکٹرک کو پی ایل ایلز کی سپلائی کیلئے آر ایل این جی کی قیمت فروخت کے تعین اور میسرز پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل کے ذریعے مزارانی گیس فیلڈ کی گیس کی قیمت پر نظرثانی کی توثیق شامل ہیں۔ کابینہ نے وفاقی حکومت کے گریڈایک تا19  تک کے ملازمین اور ایف سی و رینجرز کے لئے15 فیصد 2022ء ڈسپیریٹی ریڈیکشن الائونس  2022ء کی بھی منظوری دی۔