لاہور، 25 فروری ( اے پی پی ): گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ بچے کسی بھی قوم اور ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں، پاکستان میں 25 ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں، حکومت ان کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے،جس ملک میں جزاء و سزا کا نظام نہیں وہاں جرائم نہیں رک سکتے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ 25 ملین بچے ملک کے سکولوں میں نہیں جاتےجو بچے سکول میں ہونے چاہیے وہ لوگوں کے لیے کام کر رہے ہیں، موجودہ حکومت بچوں کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے ۔
گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ بچوں کو آزادی رائے کا پورا حق ہے، ہمارا آئین انسانیت کا علمبردار ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ۔جس ملک میں جزا و سزا کا نظام نہیں ہو گا ایسے واقعات نہیں رک سکتے معاشرے میں قانون کا ڈر اور خوف ہونا چاہیے بڑے بڑے جرائم کرنے والے تین ماہ بعد سڑکوں پر دھن دناتے پھرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ساری زندگی ہیومن رائٹس کے لیے کام کیا ہے پوری دنیا میں چائلڈ لیبر کا مسئلہ ہے جس سے نبرد آزما چیلنج ہے غریب کو یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔
گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ کانووکیشن میں جاتا ہوں لڑکیاں لڑکوں سے پوزیشن لیتی نظر آتی ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پوزیشن کا آئینی حق ہے کہ تحریک اعتماد لائے حکومت اس کا مقابلہ کرے گی فکر والی کوئی بات نہیں۔











