اسلام آباد،8مارچ (اے پی پی):جمہوریہ چیک کے سفیر ٹامس سیما ٹانکا نے مختلف شعبوں میں خواتین کی شمولیت میں اضافہ سے متعلق عالمی اور سماجی تنظیموں کے تعاون سے پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اقدام کا خیر مقدم کیا ہے، خواتین کو اپنے شعبے میں کارکردگی دکھانے اور ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کیلئے ساز گار ماحول فراہم کرنا نا گزیر ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے ورکشاب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاب کا انٹرنیشنل سنٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ ( آئی سی ایم پی ڈی) اور یورپی یونین نے اہتمام کیا تھا جس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اینٹی نارکوٹکس فورس ، پاکستان کسٹمز اور پولیس سے تعلق رکھنے والی خواتین افسران و اہلکاران نے شرکت کی ۔ اس ورکشاپ کا مقصد صنفی مساوات کے کردار اور پاکستان کے سرحدی انتظام کے قومی اداروں میں خواتین کی شمولیت سے متعلق آگاہی فراہم کرنا تھا۔ ڈائریکٹر ٹریننگ ایف آئی اے ڈاکٹر اطہر وحید نے کہا کہ ایف آئی اے میں بڑی تعداد میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں اور ایف آئی اے میں کام کرنے والی خواتین افسران کی تعداد 9.68 فیصد ہے اور اعلیٰ عہدوں پر خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
یورپی یونین وفد کے ڈپٹی ہیڈ تھامس سیلر نے کہا کہ خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنا قلیل مدتی ہدف نہیں ہے۔ اس کو طویل المدتی تناظر میں دیکھنا چاہئے، پائیدار ترقی اہداف کے جزو فائیو میں صنفی مساوات خواتین اور بچیوں کو بااختیار بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کے سرحدی انتظام کے اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تجربات کا تبادلہ ضروری ہے۔
جمہوریہ چیک کے سفیر ٹامس سیماٹانکا نے مختلف شعبوں میں خواتین کی شمولیت میں اضافہ سے متعلق عالمی اور سماجی تنظیموں کے تعاون سے پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اقدام کا خیر مقدم کیا ہے، خواتین کو اپنے شعبے میں کارکردگی دکھانے اور ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کیلئے ساز گار ماحول فراہم کرنا نا گزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے تناسب سے خواتین افسران کی تعداد میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے جو کہ بڑی کامیابی ہوگی ۔











