اسلام آباد۔24اپریل (اے پی پی):پیپلز ڈیویلپمنٹ فائونڈیشن، پاکستان سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (کینیڈا) اور وجود فائونڈیشن کے زیراہتمام ٹرانسجینڈر کے خلاف تشدد کے خاتمہ اور ٹرانسجینڈر کے حقوق سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے آگاہی سیمینار کے شرکاء نے معاشرتی سطح پر ٹرانسجینڈر کمیونٹی کو یکساں مقام دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اتوار کو اسلام آباد کلب میں منعقدہ سیمینار میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد، انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے اداروں، وکلا، صحافی برادری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی، کینیڈا سے پاکستانی سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے صدر و سیکرٹری آسمان بھٹہ اور مس اجالا نے ویڈیو لنک کے ذریعے سیمینار میں شرکت کی اور کہا کہ اس سیمینار کا مقصد آگاہی مہم کے حوالے سے معاشرے کے تمام طبقات کی حمایت حاصل کرنا ہے تاکہ معاشرے سے ٹرانسجینڈر کمیونٹی کے خلاف ہونے والے تشدد اور استحصال کا خاتمہ ہوسکے، وجود فائونڈیشن کی ڈائریکٹر پروگرام عائشہ مغل نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ 2018 میں ٹرانسجینڈر کے حقوق سے متعلق قانون پارلیمنٹ سے منظور ہوا اور 2020 سے نافذ العمل ہے لیکن اس کے باوجود گزشتہ تین برس کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا میں 75 خواجہ سرائوں کو تشدد اور قتل کا نشانہ بنایا گیا اور واقعات میں اضافہ ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اور اجتماعی معاشرہ کی تشکیل کیلئے معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون ضروری ہے۔ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے ویڈیو لنک پر گفتگو کرتے ہوئے ایسے نیٹ ورک کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا جو تشدد کے ایسے واقعات کی روک تھام اور معاشرتی سطح پر مساوات کیلئے کام کریں۔ آسمان بھٹہ نے کہا کہ ماضی میں ہم نے 800 افراد کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کرایا جو پیپلز ڈیویلپمنٹ فائونڈیشن کے اشتراک سے ممکن ہوا۔ اب ٹرانسجینڈر کے حقوق اور معاشرتی استحصال کے خاتمہ کیلئے بھی ایسے ہی اشتراک کار کی ضرورت ہے جس میں معاشرے کا ہر فرد اور ہعر طبقہ اپنا حصہ ڈالے۔ انہوں نے نصاب میں بھی جینڈر کی شناخت کے حوالے سے مضامین شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
وجود کے نمائندوں نے بھی گفتگو کرتے ہوئے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق سے جاری گائیڈ لائنز پر عملدرآمد اور معاشرتی سطح پر آگاہی کیلئے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ اس سلسلہ میں وجود کی کاوشوں سے شرکاء کو آگاہ کیا جو ملک گیر سطح پر کوششوں میں مصروف عمل ہے۔ اسلام آباد انتظامیہ کی ایڈیشنل کمشنر قراة العین نے ٹرانسجینڈر کمیونٹی کی تعلیم، تربیت اور آگاہی کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے اقدامات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ پرانے پاسپورٹ پر انہیں حج اور عمرہ پر جانے کی سہولت کی فراہمی کے علاوہ ایک ٹرانسجینڈر نمائندے کی خصوصی ڈیسک پر تعیناتی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ وزارت انسانی حقوق میں تعینات ٹرانسجینڈر ایکسپرٹ مریم شریف نے انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے اٹھانے گئے اقدامات اور قانون پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ پیش کیا اور پولیس کی سطح پر آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ قومی عملدرآمد کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس میں صوبوں کو بھی نمائندگی دی گئی ہے جبکہ ایک پروٹیکش سنٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام اداروں میں عملدرآمد کا باقاعدگی سے جائزہ بھی لیا جارہا ہے۔ ٹرانسجینڈر نمائندہ ببلی ملک نے کمیونٹی کو درپیش مشکلات کا احاطہ کیا اور کہا کہ ٹرانسجینڈر پر جتنی بات کرنا ضروری ہے اتنی نہیں کی جارہی جس کی وجہ سے معاشرتی رویوں میں تلخی پائی جاتی ہے اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں ٹرانسجینڈر ایکٹ پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ان سے متعلق پالیسی میں ان کی کمیونٹی کی شمولیت ضروری ہے۔











