ریاست کی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، عمران خان کے لانگ مارچ کا مقصد ملک میں انتشار پھیلانا ہے، خونی مارچ کا اعلان کرنے والوں کو کس طرح اسلام آباد آنے کی اجازت دے سکتے ہیں؟؛ وفاقی وزیر مریم اورنگزیب

12

اسلام آباد،24مئی  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ریاست کی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، عمران خان اپنی نااہلی اور کرپشن کے خلاف ایک مرتبہ پھر دھرنا دے رہے ہیں، فسادی ٹولے نے لاہور میں کانسٹیبل کی شہادت پر مذمت تک نہیں کی، آج پاکستان کے عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہیں کس کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، پی ٹی آئی لانگ مارچ کا مقصد ملک میں انتشار پھیلانا ہے، خونی مارچ کا اعلان کرنے والوں کو کس طرح اسلام آباد آنے کی اجازت دے سکتے ہیں، حکومت فتنے اور فساد کو روکنے کے لئے ہر طرح سے تیار ہے، امن و امان کو یقینی بنانے کے لئے ہر حد تک جائیں گے، الیکشن کی تاریخ حکومت اور اتحادی دیں گے، شہریوں کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ فسادی اور فتنہ ٹولہ ڈرامہ بازی پر اتر آیا ہے، اقتدار میں رہ کر انہوں نے چار سال جھوٹ بولے اور اب کنٹینر پر چڑھ کر پھر جھوٹ بول رہا ہے، یہ فسادی ٹولہ خونی مارچ کا اعلان ڈنکے کی چوٹ پر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ریاست کی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، شہریوں، تاجر کمیونٹی اور طلبہ کی حفاظت حکومت کا فرض ہے، حکومت اپنے فرض کو ہر طرح سے نبھائے گی، امن و امان میں کسی قسم کا خلل نہیں آنے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ فسادی اور فتنہ ٹولہ کے شر سے حکومت پاکستان انہیں محفوظ رکھے گی۔

 وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک شخص فتنہ، فساد، انتشار اور افراتفری پھیلانے کے اعلانات کر رہا ہے، پی ٹی آئی کے عہدیدار سجاد بخاری کے گھر سے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ ہوئی اور ایک پولیس اہلکار شہید ہوا، شہید پولیس اہلکار کے پانچ چھوٹے بچے ہیں، پی ٹی آئی نے اس واقعہ پر مذمت تک نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جب ذہنیت فسادی اور فتنہ والی ہو اور ملک کے اندر انتشار پھیلانا مقصد ہو تو یہ کس بات کی مذمت کریں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شہریوں کی حفاظت کے لئے ڈیوٹیاں لگی ہوئی ہیں، وہ شہریوں کی حفاظت کرتے رہیں گے، ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں  نے کہا کہ عمران خان نے 2014ء میں بھی کہا تھا کہ میں پرامن رہوں گا لیکن پاکستان کے عوام نے دیکھا کہ 126 دن انہوں نے فساد برپا کیا، عمران خان نے ایسے وقت میں دھرنا دیا تھا جب سی پیک اور چین کے صدر نے پاکستان آنا تھا، ملک کے عوام کے لئے روزگار کے مواقع اور منصوبے آ رہے تھے، عمران خان نے پارلیمنٹ پر حملہ کیا، سپریم کورٹ کے باہر گندے کپڑے لٹکائے، پی ٹی وی اور ریاستی اداروں پر حملہ کیا، سول نافرمانی کی کھلے عام کال دی، بجلی کے بل جلائے، پولیس والوں کے سر پھاڑے، ان پر حملے کئے،  ریڈ زون میں ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کے سر پھٹے، شہری اور پارلیمنٹیرینز پارلیمنٹ کے اندر تک نہیں جا سکتے تھے، ان کے 126 دن دھرنے کی وجہ سے اسلام آباد میں کاروبار تک بند تھا۔

 وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ اسی جتھے اور فاشسٹ سوچ نے پاکستان پر چار سال حکومت کی ہے، آج وہ کس بات پر دھرنا دے رہے ہیں، کیا وہ اپنی نالائقی اور چوری پر دھرنا دے رہے ہیں؟، کیا یہ بجلی، گیس، آٹا، دوائی چوری پر دھرنا دے رہے ہیں یا قرضوں کو 43 ارب روپے تک پہنچانے پر دھرنا دے رہے ہیں؟، کیا یہ 16 فیصد مہنگائی پر دھرنا دے رہے ہیں جو ان کا اپنا اعمال نامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 11 اپریل تک عمران خان وزیراعظم تھے، اگر الیکشن کرانا ان کا مقصد تھا تو یہ اس وقت کرواتے، یہ سمجھتے تھے کہ انہیں اتحادی چھوڑ کر نہیں جائیں گے اس لئے انہوں نے الیکشن نہیں کروایا۔

 وفاقی وزیر نے کہا کہ جب ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تو انہوں نے اسمبلی تحلیل کر دی، سپریم کورٹ نے اسمبلی بحال کی اور ڈپٹی سپیکر کی غیر آئینی رولنگ ریورس کی،  آج یہ کہہ رہا ہے کہ خونی مارچ ہوگا، میں آ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس رپورٹس ہیں کہ ان کے پاس مسلح افراد اور اسلحہ ہے، یہ کھلم کھلا اعلانات کر رہے ہیں کہ خونی مارچ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور جمہوریت خونی اور فسادی مارچ کی اجازت نہیں دیتے۔ ان کا مقصد فتنہ، انتشار اور فساد پھیلانا نہ ہوتا تو یہ اسلام آباد سے نکلتے، یہ پشاور سے کیوں نکل رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ خیبر پختونخوا کے وسائل کو استعمال کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی پولیس کو استعمال کرنا سب سے زیادہ خطرناک ہے، اس طرح خیبر پختونخوا پولیس، پنجاب پولیس اور اسلام آباد پولیس کے ساتھ گتھم گتھا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی زبان پرامن نہیں، ان کی زبان شر انگیز ہے، یہ کبھی پرامن احتجاج نہیں کر سکتے۔

 وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ وہی ٹولہ ہے جو یہاں فساد مچانے آیا تھا، اس نے سول نافرمانی کی، غنڈہ گردی کی، فساد اور بدمعاشی کے ذریعے ریاستی اداروں پر حملہ کیا۔ انہوں  نے کہا کہ ان نالائقوں، نااہل، چوروں اور کرپٹ ٹولے کی وجہ سے آج ملک کی معیشت تباہ ہو چکی ہے، روزگار تباہ ہو چکا ہے، مہنگائی 16 فیصد پہنچ گئی ہے، لوگوں کے پاس دوائی لینے کے پیسے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج عوام اور نوجوانوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا انہوں نے اپنے مستقبل کو تعمیر کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے یا اس ٹولے کے ساتھ جس نے چار سال ان کا روزگار چھینا، ان کے والدین سے دوائی چھینی، ان کے بچوں کی فیس چھینی، ان کے بچوں سے روٹی کا نوالہ چھینا۔

 انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر اب یہ تماشا بند ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے 2014ء میں بھی پرامن مارچ کا اعلان کیا تھا لیکن پورے ملک کے عوام نے دیکھا کہ کس طرح فساد برپا کیا گیا۔ اب تو وہ خونی مارچ کا اعلان کر کے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹولہ صبح دوپہر شام جھوٹ بولتا ہے، میڈیا کو بھی چاہئے کہ ان کا اصل چہرہ عوام کو دکھائے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت ان کی نالائقی، چوری، کرپشن اور معاشی تباہی کو ٹھیک کر رہی ہے، ایک ریڈ لائن کھینچ دی گئی ہے، اس ریڈ لائن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک ان کی وجہ سے آج غیر معمولی صورتحال سے گذر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو ملک میں امن کے لئے متحد ہونا ہوگا۔

 وفاقی وزیر  نے کہا کہ اس فریبی ٹولے نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کر کے  60 لاکھ لوگوں کو بے روزگار کیا، 50 لاکھ گھروں کی فراہمی کا وعدہ کر کے عوام کو گھر کا کرایہ دینے کے بھی قابل نہیں چھوڑا، ملک کے اندر کرپشن کی وجہ سے آج پاکستان کی معیشت اور عوام بدحالی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سازشی ٹولے نے سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، چار سال ملک میں رہ کر ملک کی معیشت، قومی سلامتی، ملک کے اداروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے انہوں نے کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا، آج معیشت ہچکولے کھا رہی ہے، ان حالات میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے تو انہوں نے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو ان وجوہات کا علم ہونا چاہئے۔ ان کے ساتھ جو لوگ کھڑے ہیں ان کو پتہ ہونا چاہئے کہ اس شخص کا ساتھ دے رہے ہیں جو ملک کے اندر انتشار اور فساد چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے شہریوں کو اس فتنے سے جان و مال کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرے اور ریاست کی رٹ کو قائم رکھے، اسی وجہ سے یہ اقدامات لئے جا رہے ہیں۔

 وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ لوگ فساد، انتشار اور افراتفری مچا کر عوام کا نقصان کر رہے ہیں، انہیں اپنے گناہوں پر معافی مانگنی چاہئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اس موقع پر سورہ بقرہ کی آیت 11 اور 12 کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ فساد نہ کرو، تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار ! بے شک وہی لوگ فسادی ہیں لیکن شعور نہیں رکھتے)۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہی وہ ٹولہ ہے جو ڈھونگ کرتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے کہ ہم اصلاح کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے الیکشن کرانا تھا، عوام کو ریلیف دینا تھا، معیشت ٹھیک کرنی تھی تو آپ کے پاس چار سال تھے، آپ ملک کے وزیراعظم تھے، آپ اسمبلی تحلیل کرتے، اس وقت اپوزیشن بھی کہہ رہی تھی کہ الیکشن کروائو۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ الیکشن کرانے کا حق ہمارا ہے، الیکشن کی تاریخ ہم نے دینی ہے، آپ جتنا مرضی شور کرلیں آپ کو فساد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ایسی حرکت جس سے عوام کو نقصان پہنچے اور ریاست کی رٹ  کمپرومائز کرے، اس پر زیرو ٹالرینس ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ایسی حرکتوں سے باز آئیں، اب ان کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گھروں میں چھپنے والے عوام سے کہہ رہے ہیں کہ وہ باہر نکلیں۔ 2014ء میں بھی کہا جا رہا تھا کہ عوام باہر آئے اور خود گھروں میں ورزش کر رہے ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عوام کو استعمال کرتے ہیں، فساد مچاتے ہیں، غنڈہ گردی کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی پولیس اور وسائل کو استعمال کرنا زیادہ خطرناک ہے۔ یہ ریاستی اداروں کے ساتھ خونی کھیل کھیلنا چاہ رہے ہیں، عوام پریشان نہ ہوں، اس وقت ایک ذمہ دار حکومت موجود ہے جس کا مقصد شہریوں کی معاشی حالت ٹھیک کرنا، مہنگائی ختم کرنا، روزگار دینا، انتشار اور فساد کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فساد اور فتنے کو روکنے کے لئے ہر طرح سے تیار ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ جس حد تک یہ جائیں گے اسی حد تک جا کر انہیں روکا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آمرانہ اور فاشسٹ سوچ چار سال تک حکومت پر مسلط رہی، انہوں نے عوام سے ہر ریلیف چھینا، اب یہ ملک میں افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے اور لانگ مارچ کا اعلان صرف شہباز شریف کے خوف کی وجہ سے ہے۔ انہیں وزیراعظم شہباز شریف کا خوف ہے کہ کہیں ملک سے مہنگائی ختم نہ ہو جائے، لوگوں کو روزگار نہ مل جائے، مہنگائی کم ہو گئی تو ترقی و خوشحالی بحال ہوگی۔

 وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے چار سال کے دوران دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو خراب کیا، اب دوست ممالک سے تعلقات بحالی کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان روز رات کو خوف میں سوتا ہے اور خوف میں اٹھتا ہے کہ کہیں شہباز شریف کوئی ایسا کام کر دے گا جس سے پاکستان کے عوام کو ریلیف مل جائے گا، یہ شخص اسی خوف کی وجہ سے ملک میں انتشار اور فساد پھیلانے کا اعلان کر رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان صبح کچھ بیان دیتا ہے، دوپہر کو کچھ اور رات کو کچھ جس سے ان کی ذہنی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایسی ذہنیت کیفیت کا حامل شخص چار سال ملک پر مسلط رہا ہے، اللہ تعالیٰ ان کے شر سے سب کو محفوظ رکھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو اس شخص کے شر سے محفوظ رکھنے کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔