فتنہ فساد کا حصہ نہ بننے پر    پنجاب  ،بلوچستان اور سندھ کے عوام    کا شکرگزار ہوں، عمران کی مقبولیت کا تاثر اپنی موت آپ مر گیا ؛وزیر داخلہ رانا ثناء اﷲ

13

اسلام آباد،25مئی  (اے پی پی):وزیر داخلہ رانا ثناء اﷲ نے عمران خان کی کال مسترد کرنے پر عوام کا شکریہ   اداکیا ہے کہ وہ گھروں میں رہے اور فتنہ مارچ کا حصہ نہیں بنے، پنجاب میں کہیں بھی چند سو سے زیادہ لوگ نہیں نکلے، عمران کی مقبولیت کا تاثر اپنی موت آپ مر گیا، خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل سے تین سے چار ہزار کا مسلح جتھہ اسلام آباد پر یلغار کرنا چاہتا ہے، جلسہ کرنے کی اجازت ہے، فساد نہیں پھیلانے دیں گے، چار سال معاشی تباہی مچانے والے اب لانگ مارچ سے باقی کسر نکال رہے ہیں۔

بدھ کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان کا دعوی 20 لاکھ لوگوں کو لانے کا تھا، پھر 30 لاکھ لوگوں کا دعوی کیا گیا لیکن صرف کے پی کے سے تین سے چار ہزار لوگ نکلے، پنجاب سے بتی چوک اور ایک مقام پر اڑھائی سو کے قریب لوگوں کا قافلہ تھا جو دو معزز خواتین اراکین کی گرفتاری کا خود ساختہ دعویٰ کرتے ہوئے واپس چلا گیا اور پنجاب کے عوام نے فتنہ فساد مارچ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا، اسی طرح بلوچستان اور سندھ کے عوام بھی فتنہ فساد مارچ کا حصہ نہیں بنے۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ فساد کا حصہ نہ بننے پر پنجاب کے عوام کا شکرگزار ہوں، جو چند سو لوگ اس فساد کا حصہ بنے ہیں ان سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ قوم کو منقسم کرنے کے ایجنڈے سے دور رہیں اور اس کا حصہ بننے سے انکار کر دیں۔

 وزیر داخلہ رانا ثناء اﷲ نے کہا کہ کے پی کے سے سرکاری پروٹوکول اور سرکاری سرپرستی میں کرین اور ہتھیاروں سے لیس تین سے چار ہزار لوگوں کا جتھہ وفاق پر چڑھائی کی نیت سے نکلا ہے، ان کا یہ مارچ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، حالت یہ ہے کہ عوام سڑکوں پر شدید گرمی میں خوار ہو رہے ہیں اور نام نہاد انقلابی خود ہیلی کاپٹر اور بڑی بڑی گاڑیوں میں سوار ہیں، انقلابی مارچ کا منظرنامہ دیکھ کر انہیں چاہئے تھا کہ وہ خود سے فیصلہ کر لیتے کہ ملک کے نظام کو خراب نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اگر معلوم ہوتا کہ ان کے پاس بندے نہیں ہیں تو ہم اتنے بڑے پیمانے پر بندوبست نہ کرتے، فتنہ فساد مارچ کے نام پر لوگوں کا کاروبار زندگی معطل کرنے کے سوا ان کا کوئی ایجنڈا نہیں تھا، ہم نے بچوں کے امتحانات بھی ملتوی کر دیئے اور اتنے بڑے پیمانے پر انتظامات کئے لیکن سندھ اور بلوچستان میں تو فتنہ فساد مارچ کا نام ہی نہیں ہے، عوامی سیلاب کے دعوئوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اتنے انتظامات کرنا پڑے جس سے عوام کو تکلیف ہوئی اور ہم عوام سے معذرت خواہ ہیں۔

 وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک صوبائی اکائی وفاق پر چڑھائی کیلئے سرکاری وسائل کا غیر قانونی طور پر استعمال کر رہی ہے اس کے نتائج بھی انہیں بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ فساد مارچ نے تین سے چار بجے جی نائن سرینگر ہائی وے کے مقام پر پہنچنا تھا لیکن ابھی تک وہاں 10 لوگ بھی نہیں پہنچ سکے، چوہدری فواد حسین بڑے بڑے دعوے کر رہے تھے وہ اڑھائی سو لوگوں کا قافلہ لے کر ابھی تک منظرعام سے غائب ہیں۔

رانا ثناء اﷲ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے چار سال ملکی معیشت، سیاست اور اخلاقیات کا بیڑا غرق کیا اور 25 مئی کو فتنہ فساد مارچ کا اعلان اس لئے کیا تاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت کے ہونے والے مذاکرات نہ ہو سکیں اور کشمیر کے حوالہ سے حریت رہنما یاسین ملک کی سزا والے دن دنیا کی توجہ اس مسئلہ سے ہٹائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یاسین ملک کی اہلیہ نے کہا تھا کہ آج کے دن اس سیاسی احتجاج کو ملتوی کر دیا جائے لیکن نام نہاد انقلابی رہنما نے ان کی بات نہیں سنی لیکن اس کے باوجود پاکستان کے عوام نے فتنہ فساد مارچ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا اور یہ مارچ صرف سوشل میڈیا تک ہی محدود ہے، عوام نے قومی سطح پر اس مارچ اور اس سے پیدا ہونے والے شر کی پذیرائی نہیں کی، ملک کے عوام وطن عزیز کو ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتی ہے۔

 وزیر داخلہ نے کہا کہ اس موقع پر میڈیا نے بھی مثبت کردار ادا کیا جسے سراہتے ہیں، کے پی کے کی طرف سے جو شرپسندی کیلئے آئیں گے ان کی راستے میں خاطر مدارت کا بندوبست کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے معزز بنچ کے احکامات کی مکمل پاسداری کریں گے، سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں مذاکراتی ٹیم  بنے گی تاہم میں اس مذاکراتی ٹیم کا حصہ نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 2014ء میں عدالت کے فیصلہ کی آڑ میں ان لوگوں نے دھرنے دیئے اور کئی روز تک اسلام آباد میں دھرنا دیا، پی ٹی وی کی عمارت پر حملہ کیا اور عملے کو یرغمال بنایا، امید ہے کہ عدالت عظمیٰ اس حوالہ سے تفصیلی فیصلے میں ان محرکات کو بھی دیکھے گی جو پاکستان تحریک انصاف نے ماضی میں اپنے کئے گئے وعدوں سے انحراف کی صورت میں کیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر میں یاسین ملک کی خدمات قابل تحسین ہیں اور پوری قوم کو حریت رہنما کی خدمات پر فخر ہے، ایک طرف 25 مئی کو بھارتی سرکار انہیں بے گناہ ہونے کے باوجود انہیں سزا سنا رہی تھی اور دوسری جانب فتنہ فساد مارچ ہو رہا تھا۔

 ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ تصادم کا ذمہ دار حملہ آور ہو گا، ہماری حکمت عملی فتنہ فساد کو روکنے کیلئے ہے، لاہور میں جو کانسٹیبل شہید ہوا حکومت نے ان کے اہلخانہ سے رابطہ کیا ہے اور ان کی دادرسی کی جا رہی ہے، مقدمہ درج کر لیا ہے، ذمہ داروں کو کٹہرے میں  ضرور لایا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک و قوم نے جس طرح فتنے کو مسترد کیا ہے اسی سوچ پر قائم رہے تو جلد فتنہ اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔