پاکستان  مشکل حالات میں ملا لیکن اسے بہتر حالات میں چھوڑ کر جائیں گے؛ وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل

10

اسلام آباد ، 07 جون   (اے پی پی ): وفاقی وزیر خزانہ و محصولات مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان  مشکل حالات میں ملا لیکن اسے بہتر حالات میں چھوڑ کر جائیں گے۔جامع اقتصادی ترقی ، برآمدات میں اضافہ اور زراعت کی ترقی اولین ترجیح ہے۔

منگل کو یہاں وزارت خزانہ کے زیر اہتمام نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کے حوالہ سے بزنس، آئی ٹی، زراعت اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور شراکت داروں سے مشاورت کیلئے منعقدہ پری بجٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے اپنے اختیارات سنبھالے تو پاکستان دنیا میں افراط زر کے حوالہ سے تیسرا بڑا ملک تھا، گذشتہ چار سال میں پاکستان کے 2 کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے چلے گئے، 60 لاکھ لوگ بے روزگار ہو گئے، 1952ء کے بعد پہلی مرتبہ ہماری منفی گروتھ ہوئی جس سے بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا، پاکستان کے قرضوں میں اضافہ کی شرح زیادہ رہی، اس سال 5 ہزار 600 ارب روپے خسارے کا اندیشہ ہے، ہمارے گذشتہ پانچ سالہ دور میں اوسط خسارہ 1650 ارب روپے تھا جبکہ جاری مالی سال میں 5600 ارب روپے کا اوسط خسارہ متوقع ہے۔

 مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 2017-18ء میں جی ڈی پی کے لحاظ سے خسارہ کی شرح 6.5 فیصد تھی، پی ٹی آئی کے پہلے سال میں مالی خسارہ  9.1 فیصد ہو گیا، اس سے اگلے سال یہ 7.1 اور پھر 8.1 فیصد آیا، یہ ستم ظریقی ہے کہ سابق حکومت نے دسمبر میں آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اس میں پرائمری خسارہ 25 ارب روپے تک کا ہدف تھا لیکن اس سال متوقع پرائمری خسارہ 1332 ارب روپے ہو گا، ان خساروں کی وجہ سے ہمارے قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا، مسلم لیگ (ن) کے دور میں قرضہ کی اوسط 2132 ارب روپے رہی جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں یہ اوسط 5177 ارب روپے ریکارڈ کی گئی ہے، ہم نے اوسط 2132 ارب روپے کے قرضوں میں بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا، بجلی اور گیس کے پلانٹس لگائے گئے، گوادر کو ترقی دی گئی جبکہ موٹرویز بھی بنائی گئیں۔

 وزیر خزانہ نے کہا کہ گیس اور بجلی کے شعبہ کا گردشی قرضہ موجودہ حکومت کو ورثہ میں ملنے والا دوسرا بڑا مسئلہ ہے، بجلی کے شعبہ میں گردشی قرضہ 2500 جبکہ گیس کے شعبہ میں 1500 ارب روپے ہے، جب تک ہم بجلی اور گیس کے شعبہ میں اصلاحات نہیں لاتے ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ جامع اور پائیدار اقتصادی نمو اور برآمدات میں اضافہ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کے اہم اہداف ہوں گے، ہم آئوٹ آف دی وے جا کر مسائل کے حل کیلئے کوششیں کریں گے، حکومت پاکستان سپیڈ کے ساتھ کام کرکے قومی معیشت کو درپیش چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرے گی۔ انہوں   نے کہا کہ نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ اسی سے ہمارے بیشتر خسارے کم یا ختم ہو جائیں گے۔