گلگت ،27جون (اے پی پی):مالی سال -23-2022 کے لیے گلگت بلتستان کا کل 119 ارب 32 کروڑ 28 لاکھ 94 ہزار روپے کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے ، وزیر مالیات گلگت بلتستان جاوید منوا نے گلگت بلتستان اسمبلی میں بجٹ پیش کیا ۔ اس بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 47 ارب 88 کروڑ 76 لاکھ 54 ہزار روپے جبکہ غیر ترقیاتی منصوبوں کے لیے 61 ارب 44 کروڑ 6 لاکھ 40 ہزار روپے رکھے گئے ہیں ۔47 ارب 96 کروڑ کے ترقیاتی بجٹ میں اے ڈی پی کے17 ارب 96 کروڑ جبکہ 18 ارب 50 کروڑ وفاقی پی ایس ڈی پی کے منصوبے اور 10 ارب گندم سبسڈی کے شامل ہیں۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافے کے ساتھ چند ایڈہاک ریلیف الاوئنسز کو ضم کرنے کی تجویز دی گئی ہےجبکہ کم ازکم ماہانہ اجرت 25 ہزار کرنے کی تجویز دی گئی ہے،اس کے ساتھ سرکاری ملازمین کے لیے 15 فیصد ڈی آ ر اے دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں غیر آباد زمینوں کے چینل اور سڑکوں کی تعمیر کے لیے 64 کروڑ 48 لاکھ جبکہ ویلیو چین ڈویلپمنٹ کے لیے 56 کروڑ 20 لاکھ کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔شعبہ تعلیم کے 2 ارب 25 کروڑ 15 لاکھ 66 ہزار روپے ،صحت کے لیے 1 ارب 20 کروڑ 76 لاکھ 98 ہزار روپے رکھے گئے ہیں ۔ شعبہ برقیات کے لیے 2 ارب 53 کروڑ 27 لاکھ،محکمہ تعمیرات عامہ کے لیے 5 ارب 39 کروڑ 53 لاکھ،انتظامہ اور قانون نافظ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافے کے 60 کروڑ 53 لاکھ مختص کئے گئے ہیں ۔
شعبہ مقامی حکومت و دیہی ترقی کے اس بجٹ میں 1 ارب 1 کروڑ 60 لاکھ 54 ہزار ،شعبہ زراعت ،امور حیوانات و ماہی پروری کے 76 کروڑ 58 ہزار 76 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ جنگلات ،جنگلی حیات و ماحولیات کے لئے 17 کروڑ 48 لاکھ 79ہزار روپے مختص کئے گئے ہیں۔شعبہ معدنیات و صنعت کے لیے 12 کروڑ 17 لاکھ 25 ہزار،محکمہ خوراک لے لئے 4 کروڑ 98 لاکھ 84 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔اسی طرح سیاحت وثقافت،کھیل وامور نوجوانان کے لیے 28 کروڑ 85 لاکھ 70 ہزار،شعبہ سماجی بہبود کےلئے 26 کروڑ 65 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔











