اسلام آباد ،29 اگست (اے پی پی ):موسم گرما کی تعطیلات کے بعد ملک بھر کے سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے،جبکہ بہت سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے نئے تعلیمی سال کا آغاز بھی کیا ہے،ایسے میں والدین نے بھی کتابوں ، اسٹیشنری اور دیگر ضروری اشیاء کی خریداری کے لیے بازاروں کا رخ کر لیا ہے،کتابوں اور اسٹیشنری کی قیمتیں تو ہوشربا ہیں ہی لیکن دیگر اشیا جن میں لنچ باکس، پانی کی بوتل، جیومیٹری باکس، اسکول بیگ اور کٹ باکس سے لے کر نصابی کتب، نوٹ بکس،کلر پنسل، مارکر اور یونیفارم کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے،جس سے والدین خصوصاً تنخواہ دار طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے،سرکاری تعلیمی اداروں میں تو اخراجات پھر بھی مناسب ہیں، لیکن پرائیویٹ سکولز میں، آرٹ ورک، ایکٹیویٹیز اور دیگر بہت سے ناموں سے والدین پر غیر ضروری بوجھ بھی ڈال دیا گیا ہے،ہوشربا فیسوں، اسٹیشنری اور دیگر اشیاء کی طویل فہرست کے پیش نظر پرائیویٹ اسکول میں تعلیم حاصل کرنا اب ایک عیش و عشرت بن گیا ہے۔
جبکہ والدین ان اخراجات کے باعث شدید پریشانی کا شکار ہیں ،تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور ہر شہری کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنے کے ضرورت ہےتا کہ اعلیٰ اور معیاری تعلیم تک ہر بچے کی رسائی کو ممکن بنایا جا سکے۔











