اسلام آباد ،29 اگست (ا ے پی پی ):پاکستان تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی لحاظ سے ایک زرخیز زمین ہے ، اس مٹی سے وابستہ صدیوں پرانے فنون اور فنکار اس دھرتی کا سرمایہ ہیں ،انہیں قدیم فنون میں ایک اہم فن، کاشی کاری یا بلیو پوئٹری کا ہے ،کاشی کاری سے مزین یہ فن پارے سفید اور سرخ مٹی کے امتزاج سے تیار کیے جاتے ہیں ،اور پھر انہیں نیلے رنگ کے ذریعے نقاشی سے مزین کیا جاتا ہے،کاشی کاری کے فن کا آغاز صدیوں پہلے ملتان سے ہوا،تحقیق کے مطابق اس فن کی کڑیاں پانچ ہزار سال قبل مسیح سے ملتی ہیں،664ء میں جب عربوں نے وادیٔ سندھ میں قدم رکھا اور محمد بن قاسم فتح کے جھنڈے گاڑتا ہوا 712ء میں ملتان پہنچا تو اس کے ہم راہ کاشی کاری کے ماہرین بھی تھے۔جنہوں نے ملتان شہر میں ڈیرے ڈال کر اس فن کو فروغ دیا۔
1853ء میں انگریز ایگزینڈر کنگھم نے قلعہ کہنہ قاسم باغ کی کھدائی کرائی تو پرہلاد کے مندر کے قریب 14فٹ گہرائی میں کاشی کی روغنی اینٹیں برآمد ہوئیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اینٹیں اس زمانے میں محمد بن قاسم کی تعمیر کردہ مسجد میں لگائی گئی تھیں۔ کاشی کاری کے فن میں ایرانی آرٹ کی جھلک دکھائی دیتی ہے اور لفظ کاشی ایران کے شہر کاشان سے نسبت رکھتا ہے۔
بعض محققین کے مطابق اس فن کی ابتدا چین سے ہوئی۔ یہ ہنر چین کے علاقے کاشغر سے ایران میں آیا پھر یہ فن ایران سے ہوتا ہوا ہندوستان پہنچا۔ تاہم ملتانی کاشی گروں نے اپنی ہنرمندی کے ذریعے اسے ایک منفرد انداز بخشا ہے، جو دنیا بھر میں اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔کاشی کاری کے فن کا اظہار برتنوں وغیرہ کے علاوہ زیادہ تر فن تعمیر میں ہوا۔ مساجد ، مقابر اور دیگر اسلامی تعمیرات میں اس کے فروغ کے باعث اسے اسلامی فن تعمیر میں ایک اہم مقام حاصل ہوا۔کاشی کاری سے مزین یہ تعمیرات آج اسلامی ثقافت اور تعمیرات کا امتیاز بن چکی ہیں۔
برصغیر کی اہم مساجد کے علاوہ حضرت شاہ رکن عالم، حضرت بہاؤ الدین زکریا، شاہ یوسف گردیز، حافظ جمال کے مزارات پر کاشی کے فن کے گہرے نقوش پائے جاتے ہیں۔صدیوں بعد بھی کاشی کاری کا فن نہ صرف زندہ ہے بلکہ دنیا بھی میں اب بے حد پسند بھی کیا جاتا ہے۔ یہ فنون ہماری ثقافتی پہچان اور ہمارا تہذیبی ورثہ ہیں ۔جس کے قومی اور بین الاقوامی سطح پر فروغ کے ذریعے ہم اپنی ثقافت کے فروغ کے علاوہ ہم اپنی معیشت کو بھی ترقی دے سکتے ہیں۔











