چترال ؛ ضلع  بھر کے  بازاروں  میں جگہ جگہ گوشت اور مرغیوں کے  دکانوں کی بھرمار، زونوٹک بیماریاں لگنے کا خطرہ

23

 چترال ، 03 ستمبر (اے پی پی ):سیاحتی ضلع چترال میں ملک بھر کے علاوہ بیرون ممالک سے بھی سیاح آتے رہتے ہیں  مگر چترال بازار میں جگہ جگہ گوشت اور مرغیوں کے  دکانوں سے نکلنے والی بدبو کی وجہ سے راہگیروں اور ان سیاحوں کو بھی نہایت مشکلات کا سامنا ہے۔ طب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آشیائے خوردنوش کے قریب ان دکانوں کی موجودگی سے زونوٹک بیماریاں لگنے کا خطرہ  بڑھ جاتا ہے ، ان مرغیوں کی دکانوں اور انہیں لانے والی اور ان کا فضلہ اٹھانے والی گاڑی سے  نکلنے  والی بد بو کی وجہ سے ہم سانس نہیں لے سکتے ہیں۔

چترال کے موجودہ اور سابقہ ڈسٹرکٹ  ہیلتھ آفیسرز نے  بھی ان مرغیوں سے لاحق بیماریوں کے خطرات کی تصدیق کی ہے ۔تاجر یونین کے سابق صدر شبیر احمد کے ساتھ اس وقت کے ڈپٹی کمشنر نے باقاعدہ خط و کتابت بھی کی تھی کہ ان دکانوں کو بازار سے باہر منتقل کیا جائے جس کی شبیر احمد نے  بھی تصدیق  کی ہے ۔

 ڈپٹی کمشنر چترال انوار الحق  بھی عوام کے پرزور مطالبے پر ان دکانوں کو باہر منتقل کرنے  کے خواہش مند ہے مگران کے مطابق اس سلسلے میں دکانداروں کی تعاون بھی ضروری ہے۔

مرغیوں کے دکانوں کے آس پاس دکانداروں کو بھی  اس کی بدبو سے کافی تکلیف ہوتی ہے اور ان کے پاس اس وجہ سے اکثر گاہک بھی نہیں آتے۔ چترال کے دکاندار اور بازار آنے والے لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاح بھی انتظامیہ اور حکومتی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان دکانوں کو  بازار کے بیچ میں سے باہر نکال کر  کسی الگ مارکیٹ میں منتقل کیا جائے  تاکہ ان کی بدبو سے راہ گیروں اور سیاحوں کو بھی تکلیف نہ ہو۔ ان دکانوں کے قریب  پھل، سبزی، بیکری اور مٹھائی کے دکانوں سے بھی یہ دور رہے تاکہ ان چیزوں کو کھاکر زونوٹک بیماریوں سے محفوظ رہ سکے۔

واضح  رہے کہ طب کے ماہرین کے مطابق جو چیزیں ہم بغیر ابالے یا پکھائے کھاتے ہیں جیسے سلاد،  پھل، بیکری، مٹھائی وگیرہ  اگر یہ چیزیں مرغیوں اور گوشت کے قریب پڑے ہو تو ان سے  کھانے والوں کو بھی زونوٹک بیماری لگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔