اسلام آباد،05ستمبر(اے پی پی):وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ سیلاب زدگان کی مدد کیلئے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط حکمت عملی کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں وزیراعظم کی طرف سے بنائی گئی کوآرڈینیشن کمیٹی برائے نگرانی امدادی کام برائے سیلاب زدگان کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں این ڈی ایم اے نے کوآرڈینیشن کمیٹی کو ملک میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل نے کہا سکھر، مٹیاری، سانگھڑ، دادو، ٹنڈواللہ یار اور دیگر اضلاع میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں پانی نے تباہی نہ مچائی ہو۔ غریب لوگ کھلے آسمان کے نیچے رہنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اس پر بھی تشویش ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں سے پانی کا نکاس کیسے کیا جائے کیونکہ اگر یہ نکاسی آب نہ ہوئی تو رواں سال زرعی پیداوارکے متاثر ہونےکے ساتھ ساتھ صحت کے مسائل پیدا ہونے کا شدید خطرہ ہے۔
وفاقی وزیر برائے آبی سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ عالمی آلودگی کی وجہ سے جو موسمیاتی تبدیلی وقوع پذیر ہوئی پاکستان اس سے شدید متاثر ہو رہا ہے لہذا یہ ایشو عالمی فورم پر لے جانا چاہئے تاکہ سیلاب متاثرین کی آبادکاری کا کا م تیز ہو سکے۔انہوں نے این ڈی ایم اے حکام کو ہدایات دی کہ امدادی سرگرمیوں کی تفصیل ضلعی لحاظ سے مہیا کی جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت، شازیہ مری نے کہا کہ حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے سیلاب زدگان کی مدد کر رہی ہے، سیلاب زدگان کے لیے کی جانے والی امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے تجارت سید نوید قمر نے کہا موجودہ سیلاب کی وجہ سے آئی تباہی سے نمٹنے کیلئے امدادی سرگرمیوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق میاں ریاض حسین پیرزادہ،سابق گورنر سندھ محمد زبیر، وفاقی سیکرٹری آبی وسائل ڈاکٹر کاظم نیاز ، چیرمین فلڈ کمیشن سمیت سنئیر افسران نے شرکت کی۔











