میرپورخاص،5ستمبر (اے پی پی):صوبائی وزیر محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور مخیر حضرات ، این جی اوز، مقامی و عالمی تنظیموں کے بھی شکر گزار ہیں جو حکومت کیساتھ ملکر مشکل وقت میں سیلاب زدگان کی مدر کر رہی ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے میرپورخاص ڈویژن میں سیلاب زدگان کی مدد کرنے والی این جی اوز کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر محنت سعید غنی نے کہا کہ سیلاب اور بارشوں سے بہت زیادہ نقصان ہوا ہے اس لیے حکومت اکیلے کچھ نہیں کر سکتی۔ این جی اوز، مقامی و عالمی تنظیموں کی مدد کی بھی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کی اعلی قیادت کی طرف سے سیلاب زدگان کے نقصانات کے ازالے کی ذمہ داری لیکرمیر پور خاص پہنچا ہوں، انشاء اللہ مشکل وقت میں اپنے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ اب تک ہم وہ ریلیف فراہم نہیں کر پا رہے ہیں جو فراہم کرنا چاہئے تھا کیونکہ ضروریات زیادہ اور وسائل محدود ہیں پھر بھی آپکے ساتھ مشترکہ کوششوں اور اقدامات سے تمام متاثرہ افراد کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور جب تک مکمل پانی نکالا نہیں جاتا تب تک ریلیف و امدادی کام جاری رہےگا۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ نے پہلے دن ہی عوام سے اپیل کی تھی کہ یہ بہت بڑی آفت ہے اس میں سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، بیرون ملک سے ابھی تک امداد کی صورت میں نہیں بلکہ ضروریات کے مطابق سامان آرہا ہے اور اس کو این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کے تحت شفاف طریقے سے تقسیم کیا جا رہا ہے، آنے والی بین الاقوامی امداد میں ٹینٹ اتنی بڑی تعداد میں نہیں آرہے جتنی ہمیں ضرورت ہے۔ ہم نے مارکیٹ سے خریدنے کیلئے بھی اقدامات کیے ہیں لیکن انکی بھی اتنی استعداد نہیں ہے، بڑی تعداد میں وہ ہمیں تیار کرکے پورے سندھ میں روانہ کریں تاکہ تمام متاثرین میں تقسیم کر سکیں، سندھ حکومت کو اس وقت 10 لاکھ ٹینٹ کی ضرورت ہے جبکہ اس وقت ہم پوری دنیا سے لینے کو تیار ہیں لیکن دستیاب نہیں ہیں۔
صوبائی وزیر محنت سعید غنی نے کہا کہ راشن کی بھی ہمیں مشکلات ہیں اور اس میں 23 اضلاع میں اس کی تقسیم بھی ایک مسئلہ ہے لیکن ہم اس پر تمام اقدامات کو یقینی بنا رہے ہیں۔ ہم تمام وسائل کو بروئے کار لارہے ہیں۔ این جی اوز، سماجی تنظیموں اور عام عوام کا بہت اہم کردار ہے جو وہ پورا کررہے ہیں۔ڈی سی کا کردار بہتر تقسیم اور کام کو سینٹرلائیز کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اس کے لئے ہمیں بہت بڑے پیمانے پر اقدامات کرنے ہوں گے اور ابھی تک حکومت اور سماجی تنظیموں کے کام کے باوجود کئی علاقوں تک رسائی ممکن نہیں ہے۔
صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ حقیقی سروے کا کام پانی کی مکمل نکاسی کے بعد ممکن ہوگا البتہ اب تک کے ڈیٹا کے مطابق 23 اضلاع بہت بڑے پیمانے پر متاثر ہوئے ہیں،حکومت آپ کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہے ،میرپور خاص میں جہاں جہاں میڈیکل کے مسائل ہیں وہاں میڈیکل کیمپس ،ادویات بھی فراہم کی جائیں گی۔
صوبا ئی وزیر محنت سعید غنی کوکمشنر سثد اعجاز علی شاہ نے بتایا کہ اس وقت سندھ کے 23 اضلاع شدید متاثر ہیں۔ اس مشکل گھڑی میں عام لوگ اور بالخصوص فلاحی تنظیمیں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔سیلانی، الخدمت اور دعوت اسلامی اس وقت اس ضلع میں روزانہ کی بنیادوں پر پکا پکایا کھانا فراہم کررہے ہیں۔
اجلاس میں رکن سندھ اسمبلی سید ذوالفقار شاہ ، کمشنر میرپور خاص سید اعجاز علی شاہ، ڈی سی میرپور خاص زین العابدین میمن، سوشل ویلفئیر ڈپارٹمنٹ کے اعلٰی افسران، مختلف این جی اوز کے اعلٰی نمائندے بھی موجود تھے۔











