اسلام آباد،7اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان لڑائیوں اور اختلافات کا متحمل نہیں ہو سکتا، قوم کو ایک ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، جس نے پارلیمان سے باہر کا راستہ چنا ہے وہ سیاست سے باہر ہو جاتا ہے، سیلاب پر ایوان میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔
جمعہ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلاب نے جو تباہی مچائی ہے اس پر اس ایوان میں بات ہونا چاہیے، پاکستان اور پڑوسی ممالک میں جو نقصان ہوا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ محکمہ موسمیات نے 30 سے 40 فیصد سے زیادہ بارشوں کی پیشنگوئی کی تھی،نوشہرہ فیروز میں 1780 ملی میٹر بارش ہوئی، حالیہ سیلاب نے پاکستان کی معیشت، بنیادی ڈھانچہ کو تہس نہس کردیا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں سے پاکستان کو پہنچنے والے نقصان کا اب عالمی برادری بھی اعتراف کر رہی ہے۔
سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ سیاست گالم گلوچ کی نہیں بلکہ عوام کے مسائل دکھوں کے حل اور مداوے کا نام ہے۔ سیاستدان گلی کوچے اور گائوں گائوں میں گیا ہے۔ دو ماہ سے میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کام کر رہا ہوں، میں فوٹو سیشن کے لئے نہیں جاتا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ طاقتور ادارہ ہے، اسے کمزور نہیں کرنا چاہیے۔ جس نے پارلیمان سے باہر کا راستہ چنا ہے وہ سیاست سے باہر ہو جاتا ہے، میری وزیراعظم سے اپیل ہے کہ وہ اس ایوان میں آئیں اور قوم اور ارکان کو اعتماد میں لیں۔
وفاقی وزیر برائے بجلی انجینئر خرم دستگیر خان نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے مہینوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے گرانی آئی تھی جس سے عوام کو تکلیف ہوئی، جون میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اگست میں بجلی کے بلوں میں شامل ہوئی جو 10 روپے تھی، اب تیل کی قیمتوں میں کمی ہوگئی ہے، ڈالر کی قدر میں بھی کمی آئی ہے اس لئے آئندہ ماہ سے بجلی کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں قیمت کم ہوکر دس پیسے ہوگئی ہے، اس سے اگلے ماہ کے بلوں میں واضح ریلیف ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر عوام کو مالیاتی ریلیف فراہم کیا گیا ہے، اس ماہ بجلی کے بلوں میں بھی کمی آئی ہے تاہم اگلے ماہ سے عوام کو واضح ریلیف ملے گا۔
جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایجنڈے میں شامل بیشتر امور نمٹائے گئے اور ارکان نے نکتہ ہائے اعتراض پر اظہار خیال کیا۔ بعد ازاں سپیکر راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام پانچ بجے تک ملتوی کردیا۔











