چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید خان کادورہ چترال  ، دروش میں تحصیل بار کی عمارت کا افتتاح کیا

18

 چترال،14اکتوبر(اے پی پی ):  چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید خان نے چترال کا  دورہ کیا ، جہاں  انہوں نے  دروش میں تحصیل بار کی عمارت کا افتتاح کیا۔اس سے پہلے انہوں نے اخاطہ  عدالت میں چنار کا پودا بھی لگایا جو علامتی طور پر شجرکاری مہم کے ذریعے ایک پیغام ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں، ان کی اعزاز میں تحصیل بار ایسوسی ایشن کے اراکین نے ایک مختصر تقریب بھی منعقد کرائی۔

تقریب کا آغاز شیر حبیب جان ایڈوکیٹ کے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ تقریب سے فرید جان، نوید الرحمان چغتائی  اور تحصیل بار  کے صدر اکرام حسین ایڈوکیٹ نے بھی اظہار خیال کیا۔انہوں نے چیف جسٹس کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کی آمد کو چترال کیلئے ایک نیک شگون قراردیا۔

اس موقع پر چیف جسٹس قیصر رشید خان نے وکلاء برادری سے اظہارخیال کیا۔انہوں نے کہا کہ چترال کی سڑکوں کی خراب حالت کو دیکھ کر انہیں بہت دکھ ہوا اور فوری طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چئیرمین کو نوٹس بھیج کر ان کو ہائی کورٹ میں طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ چئیرمین این ایچ اے کو ہدایت کی   کہ فوری طور پر چترال کی سڑکوں کو  تعمیر کیا جائے اور اس کیلئے فنڈ کا بندوبست کیا جائے،اب ان سڑکوں کی حالت پہلے سے کافی بہتر ہورہے ہیں۔

چیف جسٹس قیصر رشید خان نے کہا کہ چترال کی جنگلات کی  تحفظ کیلئے بھی ضروری اقدامات اٹھائے کہ چترال کی جنگلات کی بے دریغ   کٹائی کو اب بند کیا جائے گا۔چترال کی معدنیات سے مقامی لوگوں کو استفادہ کرنے کیلئے بھی   ضروری کارروائی کی جائے  اور معدنیات کو اونے پونے داموں فروخت سے روکا جائے۔

چیف جسٹس نے وکلاء برادری کی طرف سے دیرینہ مطالبے پر فوری ایکشن لیتے ہوئے محکمہ صحت کے سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت جاری کی کہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال دروش میں فوری طور پر لیڈی ڈاکٹر کو بھیجا جائے تاکہ خواتین مریضوں کو علاج معالجے میں آسانی ہو۔

چیف جسٹس نے اس موقع پر خوشخبری  سنائی  کہ چترال میں قائم ہائی کورٹ کے سرکٹ بنچ میں ہر ماہ ہائی کورٹ کا جج آکر لوگوں کے مقدمات سنے گا جس سے لوگوں کو کافی آسانی ہوگی اور اب ان کو دارلقضاء سوات یا پشاور جانا نہیں پڑے گا۔انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے ایڈیشنل کمشنر بھی ہفتہ وار چترال میں کیمپ کورٹ لگا کر انتظامی امور کے مقدمات کو نمٹادے تاکہ یہاں کے لوگوں کو سوات جانا نہ پڑے۔

چیف جسٹس کی چترال آمد پر وکلاء برادری بھی نہایت خوش  تھی ۔ان کا کہنا  تھا کہ  ان کی آمد سے چترال کے بہت سارے مسائل موقع ہی پر حل ہوگئے۔