پنجاب حکومت نے لاہور میں سموگ کنٹرول روم قائم کردیا، فضائی آلودگی کی روک تھام کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کی جائے گی

29

لاہور، 19 اکتوبر (اے پی پی): پنجاب حکومت نے لاہور میں سموگ کنٹرول روم قائم کردیا ہے جس کی مدد سے فضائی آلودگی کی روک تھام کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔

 صوبائی وزیر تحفظ ماحول، کوآپریٹوز و پارلیمانی امور محمد بشارت راجہ نے سموگ کنٹرول روم کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کے کوآرڈینیٹر برائے ماحولیات رانا سہیل احمد، سیکرٹری اینوائرنمنٹ پروٹیکشن عثمان علی خان بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر نے کنٹرول روم کا معائنہ کیا اور سٹاف کو ضروری ہدایات جاری کیں۔

محمد بشارت راجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ تاثر درست نہیں کہ لاہور دنیا کا سب سے آلودہ شہر ہے۔ اس وقت ہمسایہ ملکوں کے کئی شہر لاہور سے بھی زیادہ آلودہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں بھی لاہور کے آلودہ ترین علاقے کا اے کیو آئی ابھی 180 سے اوپر نہیں گیا۔ سموگ مانیٹرنگ سسٹم ورلڈ بینک کے تعاون سے لگایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانے کے اثرات پاکستان کے سرحدی علاقوں پر بھی پڑتے ہیں۔ ورلڈ بینک سمیت عالمی فورمز پر بھارت میں فصلیں جلانے کا معاملہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ تحفظ ماحول میں قائم کنٹرول روم اور خصوصی ایپ کی مدد سے فیلڈ ٹیموں کی نگرانی کی جائے گی۔ امسال سموگ سیزن سے بہت پہلے مئی سے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اس وقت وزیراعلیٰ کی ہدایت پر اینٹی سموگ سکواڈز اور تمام متعلقہ محکمے پوری طرح متحرک ہیں۔

وزیر تحفظ ماحول محمد بشارت راجہ نے کہا کہ دور دراز کے علاقوں میں سپارکو کے سیٹلائٹ کی مدد سے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ کسی ضلع میں فصلیں جلانے کی اطلاع فوراً متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ماہ میں آلودگی پھیلانے والے 719 صنعتی یونٹس کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اتنی بڑی تعداد میں کارخانے بند کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ فیکٹریاں تاحیات بند رہیں گی بلکہ فضائی آلودگی میں کمی لانے والے آلات کی تنصیب اور جرمانے کے بعد انہیں کھول دیا جاتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ سموگ پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ گاڑیوں کا دھواں ہے۔ اس حوالے سے اینٹی سموگ سکواڈز لاہور کے داخلی راستوں پر دھواں پھیلانے والی گاڑیوں پر کڑی نظر رکھ رہے ہیں۔